وارانسی: ہندو فریق کے وکیل نے کہا کہ عرضی گذار نے مسجد کو توڑنے کی نہیں بلکہ شرنگار گوری استھل اور وضوخانے میں ملے مبینہ ‘شیولنگ’ سمیت دیگر مورتیوں کی مستقل پوجا کرنے کی اجازت دینے کی عدالت سے استدعا کی ہے۔ معاملے میں جرح جاری ہے اور جمعرات کو بھی دونوں فریق بحث کریں گے۔ ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشن وشویش کی عدالت میں مسلم فریق اور ہندو فریق کے وکیلوں نے اپنی دلیلیں پیش کیں۔ ضلع عدالت میں سرکاری وکیل رانا سنجیو سنگھ نے سماعت کے بعد میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ عدالت نے جمعرات کو بھی شنوائی جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔