سروے پر نہیں لگائی روک،رپورٹ مہربند لفافہ میں پیش کرنے کی ہدایت
نئی دہلی:گیان واپی کے اے ایس آئی سروے پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسلم فریق کی درخواست پر عدالت نے کہاکہ ہم ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کیوں کریں؟ عدالت نے مسلم فریق سے پوچھا کہ اے ایس آئی کے سروے پر اعتراض کیوں ہے؟ ۔سروے سے مسلم فریق کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے مشورہ دیا ہے کہ سروے ہونے دیا جائے۔رپورٹ کو سیل بند لفافہ میں پیش کیا جائے۔عدالت نے کہا کہ سروے بہتر طریقوں سے کیا جائے۔ اے ایس آئی نے واضح کیا ہے کہ سارا سروے بغیر کسی کھدائی کے اور ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر مکمل کیا جائے گا۔قبل ازیں الہ آباد ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد اے ایس آئی کی ٹیم نے جمعرات کی صبح 8 بجے سے گیان واپی میں سروے شروع کیا۔ 4 گھنٹے بعد یعنی 12 بجے نماز کے لیے سروے روک دیا گیا۔اب سہ پہر تین بجے سے دوبارہ سروے شروع ہو گیا ہے۔ اس بار اے ایس آئی کی ٹیم میں 61 ارکان ہیں۔ یعنی پچھلی بار سے 40 ممبرز زیادہ ہیں۔گیان واپی کیمپس کو 4 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چاروں طرف کیمرے نصب ہیں۔ ویڈیو گرافی کی جارہی ہے۔ گیان واپی کی مغربی دیوار پر سب سے زیادہ فوکس ہے۔ دیوار کی باریک سکیننگ کی جا رہی ہے۔ نمونے دیکھے جا رہے ہیں۔ ہندو فریق اندر اے ایس آئی کے ساتھ ہے۔ لیکن مسلم فریق نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔مسلم فریق گیان واپی تک نہیں پہنچا۔ نماز جمعہ کے پیش نظر ریاست میں ہائی الرٹ ہے۔ گیان واپی کے آس پاس بڑی تعداد میں فورسز تعینات ہیں۔ وارانسی کی مقامی عدالت نے اے ایس آئی کو سروے کرنے اور 4 اگست کو رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔لیکن مسلم فریق سپریم کورٹ اور پھر ہائی کورٹ پہنچ گیا۔اے ایس آئی سروے نہیں کر سکا۔ ایسے حلف نامہ میں عدالت میں مزید وقت مانگا گیا ہے۔ خیال رہے کہ جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو گیان واپی کا سائنسی سروے کرنے کی اجازت دی تھی۔ جسٹس پریتنکر دیواکر نے کہاکہ انصاف کے مفاد میں سروے ضروری ہے۔ مجھے اس دلیل میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی کہ اے ایس آئی دیوار کھودے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ عدالت نے سروے روکنے کے لیے انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس دوران مسلم فریق نے ہائی کورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) آلوک کمار ورما نے سروے ٹیم کے ساتھ ہندو کی طرف سے 7 اور مسلم فریق کے 9 لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دی ہے۔