مسجد انتظامی کمیٹی کی اپیل پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ راضی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گیانواپی مسجد انتظامی کمیٹی کی اس عرضی پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے مسجد کے احاطے کے اندر پائے جانے والے مبینہ شیولنگ کے سائنسی سروے کی اجازت کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیاہے۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی نے یہ عرضی گزشتہ سال دائر کی تھی۔رپورٹ کے مطابق سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملہ کا خصوصی ذکر کیا تھا۔ احمدی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ زیر التواء ہونے کے باوجود حکم جاری کیا۔ جس کے بعد بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی۔خیال رہے کہ اس مہینے کے اوائل میں الہ آباد ہائی کورٹ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو ہدایت دی تھی کہ وہ گیان واپی مسجد میں ‘سائنسی سروے’ کرے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ شیولنگ کتنا پرانا ہے۔ہائی کورٹ نے اے ایس آئی سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سروے کے دوران عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ جسٹس اروند کمار مشرا کی سنگل بنچ ہندو فریق کی طرف سے مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ سیل بند لفافے میں جمع کرائی تھی۔ ادھروارانسی ضلع جج کورٹ نے ایک اہم درخواست کو منظور کیا ہے جس میںکہا کہ گیان واپی مسجد میں پائے گئے مبینہ شیولنگ کی ہی نہیں بلکہ پورے احاطہ کا اے ایس آئی سروے کیا جا سکتا ہے۔ ضلع جج کورٹ نے مسلم فریق کو اعتراض درج کرنے کے لیے 19 مئی تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے گیان واپی مسجد احاطہ کے سروے کا مطالبہ والی ہندو فریق کی عرضی پر سماعت کیلئے 22 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
