وارانسی کے گیان واپی کیمپس میں واقع سیل شدہ گودام کو چھوڑ کر باقی جگہوں کا سائنسی سروے پیر کی صبح 7 بجے سے شروع ہو گیا ہے۔ اس کے لیے اے ایس آئی کی 30 رکنی ٹیم اتوار کی رات دہلی، پٹنہ اور آگرہ سے بنارس پہنچی ہے۔ اس کی تصدیق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایس راجلنگم نے بھی کیا ہے۔ جہاں ہندو فریق نے سروے میں تعاون کی بات کی ہے وہیں دوسری جانب مسلم فریق کمیٹی نے ضلعی جج کے حکم کے خلاف پیر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے سروے کی تاریخ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ وہ پیر کو ہونے والے سروے میں حصہ نہیں لیں گے اور اس کا بائیکاٹ کریں گے۔ دوسری جانب گیانواپی احاطے کے سروے کو لے کر ضلع میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش کی عدالت نے 21 جولائی کو حکم دیا تھا کہ ASI کو گیانواپی احاطے میں واقع سیل اسٹوریج کے علاوہ باقی حصوں کی سائنسی جانچ کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی رپورٹ بنا کر 4 اگست تک دیں اور بتائیں کہ مندر کو توڑ کر اس کے اوپر مسجد بنی ہے یا نہیں۔