کاماریڈی میں کانگریس کا احتجاج، وزیر اعظم کا پتلہ نذر آتش، سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر کا خطاب
کاماریڈی ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف آج کل ہند کانگریس کی جانب سے کی گئی اپیل پر آج سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے میونسپل کے روبرو محمد علی شبیر نے بڑے پیمانے پر دھرنا دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے علامتی پتلہ کو نذرآتش کیا۔ محمد علی شبیر بائیک ریالی کے ذریعہ موٹر سیکل چلاتے ہوئے میونسپل پہنچ کر ترکاری کا مالا پہنا اور دھرنا پر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی حکومت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھورہی ہے اور عام آدمی کا جینا مشکل ہورہا ہے ملک میں غیر قانونی ڈرگس کی اسمگلنگ امبانی کے سی پورٹ سے ہورہی ہے اور مرکزی حکومت دیکھ کر بھی خاموش تماشائی ہے انہوں نے قیمتوں سے فوری دستبرداری اور بنڈی سنجے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ پر وضاحت کرنے کا اور کس منہ سے یاترا کررہے ہیں ۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کہا کہ مودی کے 8 سالہ دور حکومت میں عام آدمی اور درمیانی طبقہ کے افراد کا جینا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ گیس ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتو ں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ بنڈی سنجے کس منہ سے یاترا کررہے ہیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے بارے میں وضاحت کریں ۔ 2014 ء میں سلنڈر کی قیمت 400 چلر تھی تو آج 1150 روپئے ہے اور اس پر کیا جواب دیں گے ۔ ریاست سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر کشن ریڈی اور بنڈی سنجے اس بارے میں وضاحت کریں تو بہتر ہوگا۔ ملک میں نفرت کی فضاء پھیلاتے ہوئے معصوموں کو بھکایا جارہا ہے مذہب کے نام پر عوام کو گمراہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کے بعد عوام کی فلاح وبہبود کو فراموش کردیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 60 سالہ کانگریس کے دور میں پٹرول کی قیمت 60 روپئے تھی تو آج 120 روپئے ہوگئی ۔ 400 روپئے کی گیس 1200 روپئے ہوگئی ہے اور اس کے باوجود بھی کانگریس کیا کری ہے کہہ کر سوال کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ کانگریس حکومت میں ملک کی ترقی کیلئے کئی کام کیا جس کی مثالیں موجود ہے ۔ 2 کروڑ روزگار دینے کا اور سالانہ ملازمتیں کے مطابق 16 کروڑ ملازمتین دینا چاہئے تھا لیکن اب تک 16کروڑ دینا چاہئے تھا لیکن اب تک 16 لاکھ ملازمتیں نہیں دی گئی ۔ ملک میں غیر قانونی کام انجام دئیے جارہے ہیں ۔ امبانی کو ملک کی کئی چیزوں فروخت کی گئی تو اور ادانی کے سی پورٹ پر پکڑے جارہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی ہے ۔ ملک کی صنعتوں کو فروخت کیا جارہا ہے اور جی ایس ٹی کی وجہ سے قیمتوں اضافہ ہورہا ہے محمد علی شبیر نے کہا کہ پنسل پر بھی جی ایس ٹی لگایا جارہا ہے کہہ کر افسوس کا اظہار کیا۔ ریاستی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 21ہزار کروڑ کی اراضیات کو فروخت کیا گیا ۔ ریاست کو سنہرا تلنگانہ بنانے کا وعدہ ناکام ثابت ہوا۔ سنہرا تلنگانہ تو نہیں بنا لیکن کے ٹی آر کے خاندان کو سنہرا موقع مل گیا ۔ کویتا دبئی میں برج خلیفہ بھی خرید لی ہے ان کی اثاثہ جات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ کل تک کرایہ کے مکان میں رہنے والے کروڑوں روپئے کے محلوں میں رہ رہے ہیں ۔ مرکزی ، ریاستی حکومتوں کی پالیسیوں کے باعث ہر ایک پر 1لاکھ 35 ہزار روپئے کا قرض ہوگیا ہے ۔انہوں نے آئندہ انتخابات میں سبق سکھانے کی خواہش کی ۔ اس موقع پر صدر ضلع کانگریس کے سرینواس رائو ، ٹائون کانگریس راجو، یوتھ کانگریس سرینواس کے علاوہ ارکان بلدیہ سید انور احمد ، اسحاق شیرو و دیگر بھی موجود تھے ۔