کولکاتہ، 8 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عوام کو مبارکباد دی اور رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ریاست کی خواتین سے اس کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’پر جاری کردہ ایک پیغام میں معاشرے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بنگال کی تاریخ سے وابستہ کئی عظیم خواتین کو یاد کیا۔ انہوں نے لکھا، ”میں بنگال کی اس مٹی کو سلام پیش کرتی ہوں-یہ پریتی لتا وڈیدار، ماتنگنی ہاجرہ، کلپنا دت، بینا داس، سنیتی چودھری اور مدر ٹریسا کی سرزمین ہے ۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو اور تجارتی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔بنرجی نے لکھا کہ ان کی حکومت ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کرتی ہے ، جبکہ مرکزی حکومت کا کام لوگوں کو پریشان کرنا بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر لوگوں کے کچن پر پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ”گیس کی قیمتیں جس طرح بڑھائی گئی ہیں، اس سے لوگوں کے گھروں کا بجٹ متاثر ہوگا۔ اس لیے بنگال کی خواتین آج کالی ساڑھیاں پہن کر سڑکوں پر نکلیں گی اور احتجاج کریں گی۔”وزیر اعلیٰ نے اتوار کو گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف خواتین کی قیادت میں احتجاجی مارچ نکالنے کی کال دی ہے۔ اور اس میں شامل ہونے والی خواتین سے سیاہ کپڑے پہننے کی اپیل کی ہے ۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے شروع کی گئی ملف فلاحی اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ‘لکشمی بھنڈار’ اسکیم کے تحت اس وقت تقریباً 2.41 کروڑ خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے کنبوں کی خواتین کو 1,700 روپے ماہانہ اور دیگر خواتین کو حال ہی میں 500 روپے کے اضافے کے بعد 1,500 روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں۔محترمہ بنرجی نے کہا کہ ‘سواستھیہ ساتھی’ اسکیم کے تحت تقریباً 2.42 کروڑ خواتین کو اسمارٹ کارڈز موصول ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ لڑکیاں ‘کنیا شری’ منصوبے کی مستفید ہیں، جسے یونیسکو کی جانب سے بین الاقوامی شناخت بھی حاصل ہو چکی ہے ۔
ایل پی جی سلنڈس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے :سی پی آئی (ایم)
نئی دہلی، 8 مارچ (یو این آئی) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے گھریلو اور کمرشیل گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کی سخت مخالفت کی ہے ۔ سی پی آئی نے اتوار کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ گھریلو صارفین کے لیے 60 روپے کا اضافہ نہایت ظالمانہ ہے اور اس سے اجولا یوجنا کے غریب مستفیدین بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 114.50 روپے کے اضافے کا بوجھ بھی آخرکار عام صارفین پر ہی ڈالا جائے گا۔ اس سے متوسط طبقے اور محنت کش لوگوں پر اضافی بوجھ پڑے گا جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی مہنگائی اور کم ہوتی آمدنی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ سی پی آئی نے کہا کہ گیس سلنڈروں پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والے محصول کو چھوڑنے سے حکومت کا انکار اس کی عوام مخالف پالیسی کو ظاہر کرتا ہے ۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے اس گیس قیمت میں اضافے کو مغربی ایشیا کے تنازعے سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوشش دراصل اپنی ذمہ داری سے بچنے کی ایک کوشش ہے ۔
پارٹی کے مطابق یہ قدم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے سامنے حکومت کے جھکنے اور امریکہ کے عالمی بالادستی کے مفادات کے تئیں اس کی آمادگی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ملک اور اس کے عوام کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ سی پی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں کیے گئے اس اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔