گیند پر تھوک کے استعمال پر پابندی عبوری فیصلہ :کمبلے

   

نئی دہلی۔26مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے سابق کپتان اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی تکنیکی کمیٹی کے چیرمین انل کمبلے نے کورونا وائرس کی وجہ سے گیند پر تھوک کے استعمال پر پابندی عائد کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور آنے والے دنوں میں چیزیں پہلے کی طرح عام ہو جائیں گی۔کمبلے کی زیر قیادت آئی سی سی تکنیکی کمیٹی نے کورونا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے گیند پر تھوک کے استعمال پر پابندی کی سفارش کی تھی۔کمیٹی نے اگرچہ گیند پر پسینے کے استعمال کو اجازت دی ہے ۔کرکٹ کمیٹی کے اس فیصلے کے بعد سوال اٹھنے لگے تھے کہ انہوں نے تھوک کے اختیارات کے بارے میں کیوں نہیں سوچا۔ تھوک کی جگہ مصنوعی مادہ بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔اس پر کمبلے نے اسٹار اسپورس کے شو کرکٹ کنکٹڈ میں کہا کہ ہم نے اس بارے میں بحث کی تھی لیکن اگر آپ کھیل کی تاریخ کو دیکھیں تو ہم کافی تنقیدی رہے ہیں اور بیرونی اشیاء کو اس کھیل میں آنے سے روکنے پر ہماری توجہ مرکوز رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اسے جائز کرنے جا رہے ہیں تو آپ کو اس بارے میں معلومات ہونی چاہیے کہ اس کا برسوں پہلے گہرا اثر رہا ہے ۔آئی سی سی نے فیصلہ کیا لیکن پھر کرکٹ آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان اس سیریز کے دوران جو بھی ہوا، اس پر اور بھی سخت موقف اپنایا، اس لیے ہم نے اس پر غور کیا۔کمبلے نے کہا کہ لیکن یہ صرف عارضی حل ہے اور مجھے امید ہے کہ کورونا کے بعد چند ماہ یا ایک سال کے بعد حالات بدلیں گے اور چیزیں پہلے کی طرح عام ہو جائیں گی۔علاوہ ازیں انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے کہا ہے کہ کورونا کے انفیکشن کو روکنے کے ارادے سے گیند کو چمکانے کے لئے تھوک کے استعمال پر عائد پابندی سے ان بولروں کی مہارت بہتر ہو سکتی ہے جنہیں پچ سے مدد حاصل کرنے کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے ۔روٹ نے حالانکہ کہا کہ یہ بولروں کے حق میں کام کر سکتا ہے اور ان کی مہارت میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔