ہائیکورٹ ججس کی تعداد میں اضافہ جسٹس این وی رمنا کا کارنامہ

   

تلنگانہ کیلئے 34 اور آندھراپردیش میں تعداد 31 ہوگئی
حیدرآباد ۔26۔اگست (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سبکدوش ہونے والے جسٹس این وی رمنا نے ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں ججس کی تعداد میں اضافہ کے لئے اہم رول ادا کیا ہے۔ چیف جسٹس کی میعاد کے دوران جسٹس رمنا نے تلنگانہ اور آندھراپردیش ہائیکورٹس کیلئے زائد ججس کی نہ صرف کالجیم سے سفارش کی بلکہ مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کی ۔ زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر این وی رمنا نے ججس کی مخلوعہ نشستوں پر تقررات کی مساعی کی تھی۔ انہوں نے تلنگانہ ہائیکورٹ کیلئے 25 نئے ججس کو تقررات کرتے ہوئے مجموعی تعداد کو 34 تک پہنچا دیا ۔ رمنا کی مساعی کے نتیجہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں 30 فیصد ججس خواتین ہیں۔ آندھراپردیش ہائی کورٹ کے لئے 31 ججس کا تقرر کیا گیا جبکہ ہائی کورٹ ججس کی منظورہ تعداد 37 ہے۔ 16 ماہ کے اپنے دور میں این وی رمنا نے دونوں تلگو ریاستوں کیلئے ایک ایک مسلم جج کے نام کی سفارش کی تھی ۔ کالجیم نے منظوری دیتے ہوئے ان ناموں کو مرکزی حکومت کے پاس روانہ کیا لیکن مختلف وجوہات بتاکر دونوں مسلم ناموں کو روک دیا گیا ۔ گزشتہ سال 24 اپریل کو رمنا نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا ۔ تلنگانہ کیلئے 24 ججس کی منظوری دی گئی اور تاحال 11 تقررات کئے گئے۔ گزشتہ 10 ماہ میں مجموعی تعداد کو بڑھاکر 34 کردیا گیا جو متحدہ آندھراپردیش میں ججس کی تعداد سے زیادہ ہے۔ر