ہائیکورٹ عہدیداروں و ملازمین کو لاک ڈاؤن میں روکا نہ جائے

   

پولیس کمشنران کو عدالت کی ہدایت، 20 اپریل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مقدمات کی سماعت
حیدرآباد 18 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے حیدرآباد، سائبرآباد اور رچہ کنڈہ کمشنریٹس کو ہدایت دی ہے کہ ہائیکورٹ کے آفیسرس اور ملازمین کو لاک ڈاؤن کے دوران شناختی کارڈس پر سفر کی اجازت دی جائے۔ اُنھیں کوویڈ ۔ 19 سرویس پاس اور وہیکل پاس کی پیشکشی کے لئے اصرار نہ کیا جائے۔ ہائیکورٹ کے رجسٹرار پروٹوکول پی سریدھر راؤ نے اِس سلسلہ میں مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاکہ 20 اپریل سے ہائیکورٹ کے تمام کورٹس کارکردگی کا آغاز کریں گے۔ معزز ججس اپنی قیامگاہوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ درخواستوں کی سماعت کریں گے۔ ہائیکورٹ کے عہدیداروں اور اسٹاف ممبرس کو اِس سلسلہ میں ججس کے مکانات پر جانے اور بعض کو ہائیکورٹ جانے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ عدالت کی کارروائی بہتر طور پر انجام دی جاسکے۔ کمشنرس سے کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی جائے کہ ہائیکورٹ کے آفیسرس اور اسٹاف کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر سفر کی اجازت دیں۔ چیف جسٹس سمیت دیگر ججس کے لئے مختلف موضوعات الاٹ کئے گئے ہیں۔ 14 بنچس کو مختلف کام الاٹ کئے گئے جن میں بعض ڈیویژن بنچ شامل ہیں۔ چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس اے ابھیشک ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ مفاد عامہ سرویس، نان سرویس، کریمنل اپیل، حبس بیجا معاملات، فیملی کورٹ اپیلس اور دیگر اُمور کی سماعت کریں گے۔ جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ اور جسٹس ٹی امرناتھ گوڑ پر مشتمل ڈیویژن بنچ ، انکم ٹیکس ٹریبونل، انکم ٹیکس کیسیس، سنٹرل اکسائز، ٹیکس رویژن کیسیس، سٹی سیول کورٹ، لینڈ اکوزیشن، لینڈ گرابنگ اور دیگر اُمور کی سماعت کرے گا۔ جسٹس اے راج شیکھر ریڈی، جسٹس پی نوین راؤ، جسٹس سی ایچ کودنڈا رام، جسٹس شمیم اختر، جسٹس کیشو راؤ، جسٹس ابھینند کمار شیوالی، جسٹس امرناتھ گوڑ، جسٹس جی سری دیوی، جسٹس ٹی ونود کمار، جسٹس اے ابھیشک ریڈی اور جسٹس کے لکشمن کو مختلف موضوعات الاٹ کی گئی۔