ہائیکورٹ نے میڈیکل کونسلنگ جاری رکھنے کی اجازت دیدی

   

مخالفت میں دائر کردہ درخواست خارج، ہیلت یونیورسٹی نیا شیڈول جاری کرے گی

حیدرآباد 19 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں میڈیکل کونسلنگ کے دوران ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی تحفظات پر عمل آوری نہ کئے جانے کی شکایت پر ہائی کورٹ میں داخل درخواست خارج کردی گئی۔ عدالت نے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کی حکومت کو اجازت دیتے ہوئے احکامات جاری کئے ۔ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسس کیلئے پہلے مرحلہ کی کونسلنگ مکمل ہوچکی ہے۔ تاہم دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ پر اعتراض کرکے بعض طلبہ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ نشستوں کے الاٹمنٹ میں تحفظات سے متعلق نشستوں کو پہلے بھرتی کرکے کھلے زمرہ کی نشستوں کو بعد میں الاٹ کیا جارہا ہے جس کے سبب طلبہ کا نقصان ہورہا ہے۔ عدالت نے سماعت کے بعد دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ پر حکم التواء جاری کردیا تھا۔ آج اس مقدمہ کی سماعت ہوئی اور عدالت نے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کے آغاز کی اجازت دے دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یکم ستمبر سے کلاسس کا آغاز ہورہا ہے ، لہذا ایسے مرحلہ میں کونسلنگ میں مداخلت مناسب نہیں۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد کالوجی نارائن راؤ ہیلت یونیورسٹی کے عہدیدار کونسلنگ سے متعلق شیڈول کی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ طلبہ نے محفوظ نشستوں پر الاٹمنٹ کے طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے مانگ کی کہ کونسلنگ میں پہلے کھلے زمرہ کی نشستوں کو پر کیا جائے ، بعد میں محفوظ نشستوں کو الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی پر قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔