عوامی صحت کو خطرہ میں ڈالنا نامناسب، یکم ستمبر سے قبل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/19 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن کے تعلق سے حکومت کے موقف پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف تجاویز پیش کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ ہدایتیں اور احکامات جاری کرے۔ مذہبی جذبات اچھی بات ہے مگر عوامی صحت کو خطرات میں نہ ڈالنے کا حکومت کو مشورہ دیا۔ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کورونا وباء کے پیش نظر گنیش تہواروں کا گھر میں اہتمام کرنے اور مٹی کی گنیش مورتیوں کی پوجا کرنے کا عوام کو مشورہ دیا گیا ہے جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے یہ ریمارکس کئے۔ حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر رپورٹ داخل کرنے کی بھی دو مرتبہ حکومت کو ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیما کوہلی ، جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل بنچ نے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی کہ گنیش وسرجن کے موقع پر عوام کی کثیر تعداد کو اکٹھا ہونے سے روکنے اور حسین ساگر میں کیمیائی رنگوں پر مشتمل مورتیوں کے وسرجن کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ یکم ستمبر سے قبل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور کمشنر پولیس حیدرآباد کو ہدایت دی۔ کاونٹر داخل نہ کرنے پر جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد پولیس کمشنریٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی اور کیس کی آئندہ سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی۔N