لاک ڈاؤن کے اوقات میں کھلے عام گاڑیوں کی آمدورفت، سوشیل میڈیا پر عوام کا اظہار حیرت
حیدرآباد۔ ہائی کورٹ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے پولیس کی تعریف کے دوسرے ہی دن شہر میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ختم ہوچکی ہے۔ حکومت نے صبح 6 تا 10 بجے خریداری کیلئے نرمی کا اعلان کیا ہے لیکن ہائی کورٹ کی ستائش کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ پولیس نے اطمینان کی سانس لے کر عوام کو گھومنے کھلا چھوڑ دیا ہے۔ صبح 10 بجے کے بعد بھی اگرچہ دکانات اور تجارتی ادارے بند رہے لیکن عوام عام حالات کی طرح فور وہیلرس اور ٹو وہیلرس پر گھومتے دیکھے گئے۔ نہ صرف پرانے شہر بلکہ نئے شہر کے کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن کے اوقات میں سڑکوں پر عوام کی آمدورفت کو دیکھ کر مختلف ٹی وی چیانلس نے ہائی کورٹ کی ستائش کے حوالہ سے رپورٹ پیش کی ۔ ٹوئٹر اور سوشیل میڈیا میں عوام نے سڑکوں پر گاڑیوں کی تصاویر کو پوسٹ کیا جو لاک ڈاؤن کے وقت میں تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی جی پی کی جانب سے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کی ہدایت کے باوجود پولیس کا مقامی سطح پر نرم رویہ ہے۔ کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن میں عوام کی چہل پہل اور گاڑیوں کی تعداد کو دیکھ کر لوگ حیرت زدہ تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ صرف ہائی کورٹ کی ہدایت کے تحت عیدالفطر تک لاک ڈاؤن پر عمل کیا گیا اور جیسے ہی ہائی کورٹ نے پولیس کی ستائش کی ماتحت عہدیداروں نے اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی۔ شہر میں کسی بھی چیک پوسٹ پر پولیس دکھائی نہیں دی اور اگر پولیس موجود بھی ہے تو وہ آزادانہ طور پر گھومنے والے افراد کی چیکنگ نہیں کررہی ہے۔ صرف دکانات کو بند کرنا لاک ڈاؤن کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ سوشیل میڈیا میں لاک ڈاؤن کے اوقات کی تصاویر عوام کیلئے حیرت کا باعث بن چکی ہیں۔ ملک پیٹ اور مہیشورم میں لاک ڈاؤن میں بھاری آمدورفت دیکھی گئی۔ کئی نوجوانوں کو غیر ضروری طور پر گاڑیوں پر گھومتے دیکھا جارہا ہے جن میں کئی ایسے ہیں جو ایک گاڑی پر تین افراد سفر کرکے کھلی سڑکوں پر ریس لگارہے تھے۔ دلسکھ نگر ، ملک پیٹ، کتہ پیٹ، سرور نگر ، سعیدآباد، مہدی پٹنم، بازار گھاٹ، نامپلی اور ساؤتھ زون کے کئی علاقوں میں آج لاک ڈاؤن کے اوقات میں عوام بلا خوف گھومتے دکھائی دیئے۔ قواعد کی سنگین خلاف ورزی میں ماسک کے بغیر گھومنے والوں کو بھی پولیس نے نہیں روکا ۔ حکومت لاک ڈاؤن کے ذریعہ کورونا پر قابو پانے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن ایسی خلاف ورزیاں کیسس میں اضافہ کا سبب بنیں گی۔