ہیلمٹ اور دستاویزات کے نام پر چالانات ، ٹریفک پولیس کی خاموشی سے قانون کی خلاف ورزی
حیدرآباد۔11اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں محکمہ پولیس کی جانب سے قوانین بنائے تو جاتے ہیں لیکن ان پر عمل آوری کس حد تک ہوتی ہے اس کا اندازہ سٹی کالج سے نیا پل جانے والی سڑک پر جہاں ہائی کورٹ موجود ہے وہاں نو پارکنگ میں کی جانے والی گاڑیوں کی پارکنگ سے ہوتا ہے ۔ محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے ہیلمٹ نہ پہننے پر ان کی تصویر کشی کرتے ہوئے انہیں بھاری چالانات کئے جاتے ہیں اور شہر کے کئی مقامات پر نو پارکنگ سے گاڑیوں کو ضبط کرتے ہوئے شہریو ںکو ہراساں کیا جاتا ہے لیکن ہائی کورٹ کی اس مصروف ترین سڑک پر جہاں ’’نو ہارن اور نوپارکنگ ‘‘ زون ہیں ان مقامات پر ہمہ وقت محکمہ ٹریفک پولیس کے جوان اور عہدیدار موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود سڑک کے کنارے سے پارکنگ لگی ہوئی ہوتی ہے اور محکمہ پولیس کے یہ ملازمین ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے بلکہ وہ سڑک پر ٹریفک کو بحال کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر تمام مصروف ترین علاقوں سے شہریوں کو ٹریفک پولیس کی کاروائیوں سے شکایت ہے اور ان شکایات کو دور کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی جاتی ہے بلکہ شہریوں کی شکایات کو سنی ان سنی کردیا جاتا ہے ۔ریاست میں صرف محکمہ ٹریفک پولیس کا ہی نہیں بلکہ ہر محکمہ کا حال یہی ہے اور عوامی شکایات کو نظرانداز کرتے ہوئے محکمہ جاتی عہدیداروں اور حکومت کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ہائی کورٹ کی مصروف ترین سڑک پر سڑک کے کنارے پارکنگ کی اجازت نہ ہونے کے باوجود پارکنگ کی گنجائش فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اس ایک رخی راستہ پر نہ صرف بسیں چلتی ہیں بلکہ ہر طرح کی گاڑیاں اس سڑک پر چلائی جاتی ہیں لیکن محکمہ پولیس ان گاڑیوں کو چلانے سے روکنے اور نو پارکنگ کے علاقہ میں پارکنگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے راستہ فراہم کرنے اور ٹریفک بحال کرنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے ۔اتنا ہی نہیں سٹی کالج کے باب الداخلہ کے قریب بھاری جمیعت کو تعینات کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف چالانات کئے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ محکمہ کے ذمہ داروں کو نو پارکنگ میں لگائی جانے والی یہ گاڑیاں نظر نہیں آتی جو ہائی کورٹ کے باہر قطار میں لگائی جاتی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔