ہاتھرس آبروریزی و قتل کیس دن بدن سنگین

   

ہاتھرس؍لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع ہاتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ پیش آیا عصمت دری و قتل معاملہ دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے ۔جہاں متاثرہ کنبہ اور ملزمین کے اہل خانہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں۔تووہیں علاقے میں ذات کی بنیاد پر ہونے والے منافرت میں اضافے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔متاثرہ کا تعلق دلت سماج سے ہے تو گرفتار 4ملزمین کا تعلق اعلی ذات سے ہے ۔ریاستی حکومت کے دعوی کے مطابق ہاتھرس واقعہ کے پیچھے کچھ شرپسند عناصر کا ہاتھ ہے جو ذات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو لڑا کر فساد کرانا چاہتے ہیں تو وہیں حکومت نے ماریشش اور دیگر بیرونی ممالک سے 100کروڑ روپئے سے زیادہ کی فائنانس کا دعوی کر کے معاملے کو مزید حیران کن کردیا ہے ۔یوپی پولیس نے اس ضمن میں سازش کرنے کے الزام میں پی ایف آئی کے چار اراکین کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق کیرالہ سے ہیں وہیں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ پورے معاملے کی تحقیقات کررہا ہے ۔سی بی آئی نے پہلے ہی پورے معاملے کی جانچ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔نیز یوپی حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ ایس آئی ٹی کی جانچ کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے ۔تاہم خطے میں ذات کی بنیاد پر فساد کے پھوٹ پڑنے کے شبہ کے بعد یوپی حکومت نے اے ڈی جی سطح کے دو افسران کو گذشتہ رات لکھنؤ سے ہاتھرس کے لئے روانہ کیا ہے ۔تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نپٹا جاسکے ۔دو سینئر آئی پی ایس افسر راجیو کرشنا اور سلب ماتھر علی گڑھ اور ہاتھرس میں اگلے ایک ہفتے تک مہم پر رہیں گے تاکہ علاقے میں کسی بھی قسم ممکنہ ناخوشگوار حالات پر قابو حاصل کیا جاسکے ۔دونوں افسران عوام اور پنچایتوں سے ملنے کے بعد اپنی رپورٹ ڈی جی پی کو سونپیں گے ۔