’’ہمیں پوری دنیا کی صلاح نہیں چاہئے‘‘: عدالت ِ عظمیٰ
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ہاتھرس کے مبینہ گینگ ریپ اور قتل کے معاملے کو الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کے اشارے کے ساتھ جمعرات کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رما سبرامنیم کی بینچ نے مختلف فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ ہاتھرس کیس کی سپریم کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہوئی۔ عدالت میں اس دوران کئی اُمور پر تیکھی بحث بھی ہوئی، یوپی حکومت نے متاثرہ کے کنبے کو سیکورٹی مہیا کرائے جانے کی تفصیل دی۔ وہیں، متاثرہ کنبہ نے عدالت میں کیس کا ٹرائل دہلی ٹرانسفر کرنے کی اپیل کی۔ معاملہ کی سماعت کے آخر میں چیف جسٹس (CJI) ایس اے بوبڈے نے کہا کہ انہوں نے ملزم، حکومت اور متاثرہ کو سن لیا ہے اور اب پوری دنیا کی رائے نہیں لیں گے۔ ایسے میں کسی نئے عرضی گزار کو اس میں نہیں سنیں گے۔سپریم کورٹ میں بنیادی طور پر خاندان کی سیکورٹی کے لئے عرضی دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے ابھی اس پر کوئی حکم نہیں دیا ہے۔
