ہاتھرس میں پولیس کا رویہ مشکوک ‘ بی جے پی کی امیج متاثر : اوما بھارتی

,

   

میڈیا اورا پوزیشن کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کا موقع دینے کی وکالت
نئی دہلی ۔ سینئر بی جے پی لیڈر اوما بھارتی نے کہا کہ ہاتھرس واقعہ پر پولیس کا رویہ مشکوک ہے جس کے نتیجہ میں یو پی حکومت اور بی جے پی کی امیج متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کو وہاں سے ہٹالیں۔ گاوں کا محاصرہ ختم کیا جائے اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور میڈیا کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔ کورونا سے متاثر ہوکر زیر علاج اوما بھارتی نے آج ٹوئیٹس کرتے ہوئے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ سیاستدانوں اور میڈیا کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے متاثرہ لڑکی کی جلد بازی میں آخری رسومات پر بھی تنقید کی ۔ اوما بھارتی نے ہندی میں ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ متوفی ایک دلت کی بیٹی تھی ۔ پولیس نے جلد بازی میں آخری رسومات ادا کردیں اور اب اس کے خاندان اور سارے گاوں کو پولیس محاصرہ میں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو انہوں نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جس انداز سے پولیس نے سارے گاوں اور متاثرہ خاندا نکو محاصرہ میں رکھا ہے وہ قابل تشویش ہے چاہے اس کی دلیل کچھ بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ کس قانون کے تحت اس خاندان کو دوسروں سے ملاقات سے روکا جارہا ہے ۔ ایسا کرنے سے ایس آئی ٹی تحقیقات پر بھی سوال پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اوما بھارتی نے کہا کہ ہم نے ابھی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا ہے ۔ ہم رام راجیہ لانے کی بات کرتے ہیں لیکن پولیس کے مشکوک اقدامات سے بی جے پی اور اترپردیش حکومت کا امیج متاثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف منسٹر سے درخواست کرتی ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور میڈیا کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کورونا سے متاثر نہیں ہوتیں تو وہ خود بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کیلئے جاتیں۔ جب وہ ڈسچارج ہوجائیں گی تب یقینی طور پر وہ وہاں جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو ان کی درخواست مسترد نہیں کرنی چاہئے ۔