ہاتھرس:اترپردیش کے ہاتھرس میں 14 ستمبر کو دلت لڑکی کی مبینہ اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کی جانچ سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ اتوار کو سی بی آئی کی ٹیم جانچ کی شروعات کرنے کیلئے سب سے پہلے چندپا پولیس اسٹیشن پہنچی۔ بتایا جارہا ہے کہ سی بی آئی کی ٹیم کے ساتھ فارنسک ٹیم بھی موجود رہے گی۔ وہیں پیر کی صبح متاثرہ کے گاوں پہنچ کر جائے واقعہ کا معائنہ کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق 15 دنوں تک سی بی آئی کی ٹیم ہاتھرس میں میں ٹھہر کر معاملہ کی جانچ کرے گی۔متاثرہ کے بھائی کے مطابق ہم رات میں لکھنو کا سفر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہیں خاندان کے انکار کے بعد پولیس نے جانکاری دی ہے کہ اب لکھنو کیلئے پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے نکلنا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں ازخود نوٹس لیا ہے۔ اس پورے معاملہ کو لے کر متاثرہ حاندان نے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا ، جس کی وجہ سے انہیں پولیس تحفظ فراہم کرایا گیا ہے۔
