ہاتھرس کیس : سی بی آئی تحقیقات سے اعتماد بحال ہوگا

   

Ferty9 Clinic

تحقیقاتی ایجنسی غیرجانبدارانہ جانچ کی توقع ، عدالتی تحقیقات کیلئے متاثرہ خاندان کا مطالبہ

نئی دہلی (وینکٹ پرسا): اُترپردیش کے علاقہ ہاتھرس میں ایک دلت نوجوان لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کی تحقیقات کی ذمہ داری اب سی بی آئی نے لے لی ہے، اس سے عوام کے اندر سی بی آئی کے تعلق سے اعتماد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ سی بی آئی سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اس کیس کو پوری پیشہ ورانہ ذمہ داری سے نمٹے گی اور متاثرہ لڑکی کے ارکان خاندان کو انصاف دلائے گی۔ اترپردیش کی پولیس نے اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو نظرانداز کردیا ہے۔ اس کیس سے نمٹنے میں پولیس نے لاپرواہی دکھائی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو چیف منسٹر یوپی یوگی ادتیہ ناتھ نے تشکیل دیا تھا جس پر عوام کو کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ متاثرہ خاندان نے اس کیس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی معطلی پر زور دیا ہے جو متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکاکر خاموش کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 14 ستمبر کو دلت لڑکی کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ افسوسناک واقعہ ہے۔ اس کیس سے نمٹنے میں حکومت اور پولیس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظم و نسق میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یوپی پولیس نے متاثرہ لڑکی کو علیگڑھ کے دواخانہ تک آٹو رکشا کے ذریعہ پہنچایا اور وہ ایک ہفتہ تک جنرل وارڈ میں تڑپتی رہی۔ عوام کے غم و غصہ اور احتجاج کے پیش نظر متاثرہ لڑکی کو تاخیر سے آئی سی یو منتقل کیا گیا اور دارالحکومت دہلی کے صفدر جنگ دواخانہ میں شریک کیا گیا جہاں اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ لڑکی نے بستر مرگ پر بیان دیا، اس کے باوجود پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے بستر مرگ پر دیئے جانے والے بیان کو ہی ٹھوس ثبوت قرار دیا ہے۔ عصمت لٹ جانے اور پورا جسم زخموں سے لہو لہان ہوجانے کے بعد تڑپ تڑپ کر اس لڑکی نے دَم توڑ دیا ۔ اس کے بعد بھی پولیس کا غیرانسانی برتاؤ ختم نہیں ہوا بلکہ لڑکی کی نعش کو خاندان والوں سے چھین کر شمشان گھاٹ لے جاکر جلا دیا۔