یمنا ایکسپریس وے پرپولیس سے بحث اور دھکم پیل کے بعد کانگریس قائد گر پڑے
راہول اور پرینکا کے خلاف ایف آئی آر درج ، الہ آبادہائیکورٹ کی یوپی حکومت کو نوٹس
نئی دہلی : ہاتھرس واقعہ کے متاثرہ خاندان سے ملاقات اور اظہار ہمدردی کیلئے کانگریس قائد راہول گاندھی دہلی سے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے لیکن یوپی پولیس نے یمنا ایکسپریس۔ وے پر انہیں آگے جانے سے روک دیا اور اکیلے ہی جانے کی ضد پر انہیںحراست میں لے لیا گیا۔ را ہول نے پولیس کی اس کارروائی کی سخت مخالفت کی ۔ اس موقع پر راہول کی پولیس کے ساتھ زبردست جھڑپ ہو گئی۔ راہول نے کہا کہ پولیس نے انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔پولیس کے ساتھ نوک جھونک کے بعد راہول برہم ہو گئے اور انہوں نے میڈیا کے سامنے پولیس پر کئی سوال داغ دئیے۔ انہوں نے کہا کہ اکیلے آدمی پر دفعہ 144 تو نافذ نہیں ہوتا ہے۔ را ہول نے کہا کہ وہ متاثرہ دلت لڑکی کے ارکان خاندان سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس ملک میں صرف مودی جی کو پیدل چلنے کا حق ہے۔ ہمارے جیسے عام لوگ پیدل نہیں چل سکتے اور پولیس کے ساتھ دھکم پیل کے درمیان وہ زمین پر گر پڑے۔پولیس کی دھکامکی کے بعد راہل گاندھی، دھرنے پر بیٹھے تو انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا ۔
یو پی کے ہاتھرس میں اجتماعی عصمت ریزی اور حیوانیت کی شکار متاثرہ لڑکی کی منگل کو دہلی کے صفدر گنج اسپتال میں موت ہوگئی تھی جس کے بعد ہاتھرس ضلع انتظامیہ نے اہل خانہ کی مخالفت کے باجود چہارشنبہ کی درمیانی شپ تقریبا 2:30 بجے لڑکی کی آخری رسو مات اداکردی تھیں۔ کانگریس نے اس ضمن میں سخت احتجاج کرتے ہوئے چہارشنبہ کو ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ پرینکا واڈرا نے فون پر متاثرہ کے اہل خانہ سے بات کی تھی۔ اسی ضمن میں جمعرات کو پرینکا اور راہول اپنے قافلے کے ساتھ ہاتھرس میں متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے نکلے تھے لیکن ان کے قافلے کو گریٹر نوئیڈا پولیس نے روک لیا۔جس کے بعد وہ پیدل ہی ہاتھرس کیلئے روانہ ہوگئے۔اس دوران پرینکا واڈرا نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اترپردیش میں نظم ونسق تباہ ہوچکا ہے۔ لڑکیوں اور خواتین پر آئے دن مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن بے حس یوگی حکومت خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔اترپردیش میں گوتم بدھا نگر کی پولیس نے بتایا کہ اس نے کانگریس قائد راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ تقریباً 200 کانگریس ورکرس کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان پر وبائی امراض کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ، چونکہ انہوں نے سماجی فاصلے کو برقرار نہیں رکھا اور چہرے پر ماسک نہیں لگائے گئے تھے۔ اسی دوران الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بینچ نے ہاتھرس واقعہ ازخود نوٹ لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ) ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ، اے ڈی جی پی (لا اینڈ آرڈر) ، ہاتھرس ڈی ایم اور ڈسٹرکٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کی اور انہیں 12 اکتوبر کو عدالت میں حاضر کو وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پولیس کی اس کارروائی کے خلاف کانگریس کارکنوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔