ہارورڈ یونیورسٹی لیڈر شپ پروگرام میں شرکت کے بعد ریونت ریڈی حیدرآباد واپس

   

آرٹیفیشل انٹلی جنس پر سمینار میں شرکت کی دعوت، یونیورسٹی کے طلبہ اور ماہرین سے تلنگانہ کی ترقی پر تبادلہ خیال

حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس اور پھر امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول میں لیڈر شپ پروگرام میں شرکت کے بعد حیدرآباد واپس ہوگئے۔ ریونت ریڈی نے 21 ویں صدی میں لیڈرشپ کے عنوان سے 5 روزہ پروگرام میں بحیثیت طالب علم شرکت کی اور دنیا کے 20 ممالک سے تعلق رکھنے والے 62 طلبہ کے ساتھ ایگزیکٹیو ایجوکیشن پروگرام کی تکمیل کی۔ چیف منسٹر نے پروگرام کے تحت اسائنمنٹ اور ہوم ورک کی انجام دیہی کے ذریعہ کورس میں ایک سرگرم طالب علم کا رول ادا کیا۔ دورہ کے آخری دن ریونت ریڈی نے یونیورسٹی میں مختلف وفود، گروپس، طلبہ اور سابق طلبہ سے ملاقات کی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے مختلف اسکولوں سے وابستہ طلبہ اور سابق طلبہ کے علاوہ ایم آئی ٹی اور کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ سے بات چیت کی۔ طلبہ اور سابق طلبہ نے ریونت ریڈی سے لیڈرشپ کے علاوہ معاشی اور سماجی ترقی کے اصولوں پر اظہار خیال کیا۔ ماحولیاتی تحفظ اور سماج کی مختلف طبقات کی فلاح و بہبود پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ رائزنگ ویژن 2047 کے اہم نکات پیش کئے اور ویژن کی تکمیل میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ اور پروفیسرس مزید رہنمائی کریں گے۔ چیف منسٹر نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان میں ترقیاتی کاموں سے وابستہ ہو جائیں اور تلنگانہ رائزنگ کے برانڈ ایمبیسڈر کا رول ادا کریں۔ طلبہ نے ریاست کی ترقی اور خوشحالی میں تعاون کا یقین دلایا۔ اسی دوران ہارورڈ کینیڈی اسکول نے آرٹیفیشل انٹلی جنس پالیسی پر سمپوزیم سے خطاب کی ریونت ریڈی کو دعوت دی ہے۔ ریونت ریڈی کو بطور کلیدی مقرر مدعو کیا گیا۔ سمپوزیم میں مدعو کئے جانے والے ریونت ریڈی واحد ہندوستانی رہنما ہیں۔ ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ڈین پروفیسر جریمی وائنسٹن کے ہمراہ وفد نے ریونت ریڈی کو مدعو کیا۔ یہ سمپوزیم مارچ میں منعقد ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ حیدرآباد سے ورچول خطاب پر غور کریں گے۔ سمپوزیم کے دوران عالمی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے ساتھ اے آئی انفرااسٹرکچر کے موضوع پر مباحث ہوں گے۔ 1