ڈاکٹر محمود خاں کا کارنامہ
سیاست فیچر
دنیا بھر بالخصوص ہندوستان میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کی تعداد ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے اور ان مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کی خاطر مختلف ملکوں میں ماہرین امراض قلب مسلسل ریسرچ کیے جا رہے ہیں ایسے ہی ڈاکٹروں میں ڈاکٹر محمود خان پی ایچ ڈی ایم فارم بھی شامل ہیں جو اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی ویکسنس میڈیکل سینٹر میں جاری تحقیق کے ایک نمایاں ریسرچر یا محقق ہیں جنہوں نے ہارٹ فیل کے مریضوں کی زندگی بچانے کے معاملے میں ایک طبی انقلاب برپا کر دیا ہے حالیہ پیشرفت میں انسا نی پیدا کردہ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز کی پروگرامنگ کرنے کی ٹیکنالوجی نے مایوس مریضوں اور ان کے فکرمند عزیزوں میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہو گا کہ کئی برسوں کی ریسرچ کے بعد ایک بائیو انجینیئر کارڈیک پیچ تیار کیا جا رہا ہے اور اسے طبی ازمائشوں سے گزارا جا رہا ہے دل کے اس پیچ کو اس مقصد کے لیے ازمایا جا رہا ہے کہ دل کے خلیات یا سیلز کو راست طور پر خراب شدہ دل کی بافتوں یا ٹشوز تک پہنچایا جا سکے اپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کئی دہوں سے اسٹیم سیلز کی ممکنہ بحالی کی صلاحیتوں نے محققین کو بہت پرجوش کیا بڑا حوصلہ دیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیم سیلز کا موثر استعمال ابھی تک مشکل بنا رہا کیونکہ مطلوبہ جگہ پر خلیوں کی طاقت اور پائیداری کا حصول مشکل رہا ساتھ ہی اس بات کا بھی محققینکو خدشہ یا خوف لگا رہتا تھا کہ اسٹم سیل جسم میں کہیں اور منتقل ہو جائیں ان حالات میں اسٹیٹ یونیورسٹی ویکسینز میڈیکل سنٹر میں اس کے سرفہرست محقق ڈاکٹر محمود خان کارڈیک پیچ پر کام کر رہے ہیں جس کا حجم 4*4 سینٹی میٹر ہے جو بڑے جانوروں میں دل کی کارکردگی کو بہتر بنا رہا ہے واضح رہے کہ ڈاکٹر محمود خان ڈیپارٹمنٹ اف ایمرجنسی میڈیسن میں ایک پروفیسر اور بیسک اینڈ ٹرانس ریشنل ریسرچ کے ڈویڑن ڈائریکٹر ہیں دل کی حفاظتی میکنزم پر ان کی 20 سالہ تحقیق جو دراصل دی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی ڈورو تھی ایم ڈیوس ہارٹ اینڈ لنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کی گئی ممکنہ علاج کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کا سبب بنی ہے اس بارے میں ڈاکٹر محمود خان کہتے ہیں کہ اوہائیو اسٹیٹ ڈیوس ہارٹ اینڈ لنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے میرے کیریئر کو اگے بڑھایا اور ایسا ماحول فراہم کیا جس نے قلب کی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل کو ممکن بنایا دل کے خلیات کی دوبارہ بحالی کا راستہ دیکھیں تو سال2000 کی شروعات میں دنیا بھر کے سائنسدان ایسے طریقے تلاش کرنے لگے جن کے ذریعے مخصوص اور مختلف قسم کے ایٹم ٹائم سیلز کو استعمال کر کے جسم میں تباہ شدہ خلیات کی جگہ نئے خلیات پیدا کیے جا سکیں اسی دوران ڈاکٹر محمود خان نے دل کے امراض میں اسٹیم سیلز کے استعمال پر ریسرچ کر رہے تھے اور ان کے استاد نے انہیں چوہوں میں دل کے دورے یعنی مایو کارڈیل انفاریکشن ماڈل تیار کرنے کی ترکیب دی ڈاکٹر محمود خان کہتے ہیں کہ انہوں نے چوہوں میں تجرباتی طور پر دل کا دورہ پیدا کرنے کے بعد ان کے دل میںskeletal myoblast cells منتقل کرنے پر کام شروع کیا اگرچہ یہ خلیات پیوند کاری کے بعد چوہوں کے دل میں موجود رہے لیکن یہ میزبان دل کے خلیات کارڈیو مایو مایوسائٹس کے ساتھ مکمل طور پر جوڑ نہیں سکے مزید یہ کہ کلینکل تجربات کو ventricular tachyarrthythmios اور اچانک کارڈیک ڈیتھ جیسے مسائل نے متاثر کیا کیونکہ ان خلیات میں وہ کارڈیک گیپ جنکشن پروٹین موجود نہیں تھا جو دل کے خلیات کے ساتھ جڑنے اور سکڑنے کے عمل کے لیے ضروری ہوتا ہے تاہم اس تحقیق نے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کی جس میں اپنے جسم کے بون میرو سے حاصل ہونے والے ایم ایس سیز کی دریافت شامل تھی ان خلیات نے مختلف قسم کے خلیات میں تبدیل ہونے اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کی امید پیدا کی۔