ثبوت پیش کرنے اور ہاسپٹلس کو فریق بنانے عدالت کی ہدایت
حیدرآباد۔ کارپوریٹ و خانگی ہاسپٹلس میں کورونا علاج کیلئے بھاری رقومات کی وصولی کی شکایت کرکے تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گذار نے زائد رقم وصول کرنے سے ہاسپٹلس کو روکنے استدعاکی۔ ہائی کورٹ نے درخواست گذار کو مزید ثبوت فراہم کرنے اور ہاسپٹلس کو فریق بنانے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے رضاکارانہ تنظیم کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گذار نے اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے تراشے پیش کئے جس میں بتایا گیا کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس کوویڈ مریضوں سے 50 ہزار تا دیڑھ لاکھ روپئے یومیہ وصول کررہے ہیں جبکہ حکومت نے یومیہ 4 تا9 ہزار روپئے کی حد مقرر کی ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس کورونا کے علاج کو منافع کا ذریعہ بناچکے ہیں اور مریضوں کو لوٹ رہے ہیں۔ خانگی ٰ کارپوریٹ شعبہ کے 50 فیصد بستر حکومت کے کنٹرول میں لینے کی درخواست کی گئی۔ ججس نے کہا کہ درخواست میں کسی خانگی ہاسپٹل کو فریق نہیں بنایا گیا لہذا درخواست گذار کو وقت دیا گیا۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 10 جولائی کو مقرر کی گئی۔