ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کی حکومت بیجنگ کے طرف سے 2020 میں نافذ کردہ قومی سلامتی کے قانون کی بنیاد پر اس سال نئے قوانین منظور کرنا چاہتی ہے۔ہانگ کانگ کے حکام نے منگل کو تصدیق کی کہ حکومت نے اس سال نئے، سخت سکیورٹی قوانین کو منظور کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔یہ قوانین 2020 میں بیجنگ کی طرف سے نافذ کردہ قومی سلامتی قانون کی بنیاد پر تیار کیے جائیں گے۔ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکیٹیو جان لی نے کہا، “میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ بنیادی قانون کی دفعہ 23 کی قانون سازی حتی الامکان جلد از جلد کی جانی چاہئے۔لی کا کہنا تھا کہ یہ (ہانگ کانگ کی) ایک آئینی ذمہ داری ہے…جو ہانگ کانگ کے حوالے کرنے کے 26 سال بعد بھی پوری نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات حقیقی ہیں، ہمیں ان کا تجربہ ہوچکا ہے اور ہم ان سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں… ہم دوبارہ اس تکلیف دہ تجربے سے گزرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ’’غیر ملکی‘‘ ایجنٹ ہانگ کانگ میں اب بھی سرگرم ہوسکتے ہیں۔جان لی نے کہاکہ گوکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طورپر پرسکون اور بہت محفوظ نظر آتا ہے، لیکن ہمیں اب بھی ممکنہ تخریب کاری اور زیریں لہروں پر نگاہ رکھنی ہوگی، جو مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
