بیجنگ ۔ 27 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) فرانس میں منعقدہ
G-7
چوٹی کانفرنس میں ہانگ کانگ کی خود مختاری پر جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے ، اس پر چین نے اپنی عدم اطمینانی کا اظہار کیا ہے ۔ مشترکہ بیان میں ہانگ کانگ سے یہ خواہش کی گئی ہے کہ وہ کئی ماہ طویل احتجاج کے بعد اب پرسکون ہوجائے ۔ اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران G-7 چوٹی کانفرنس میں عالمی قائدین کی جانب سے ہانگ کانگ معاملہ پر جاری کئے گئے بیان پر شدید عدم اطمینانی ظاہر کی ہے ۔ پیر کے روز چوٹی اجلاس میں برطانیہ اور چین کے درمیان 1984 ء میں کئے گئے معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی قائدین نے ہانگ کانگ کی خود مختاری کی تائید کی تھی اور خواہش کی تھی کہ ہانگ کانگ کے حالات اب معمول پر آجائیں تو بہتر ہوگا لیکن چین کا یہی ماننا ہے کہ دیگر بیرونی حکومتیں ہانگ کانگ معاملہ میں مداخلت کر رہی ہیں جب کہ G-7 بھی اس معاملہ میں رخنہ اندازی کرتے ہوئے اپنے شر انگیز ارادوں کو ظاہر کر رہا ہے ۔ گینگ شوانگ نے مزید کہا کہ چین بارہا یہ بات کہہ چکا ہے کہ ہانگ کانگ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی بھی حکومت ، تنظیم یا فرد کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ ہانگ کانگ گزشتہ دو ماہ سے احتجاجی مظاہروں کا گڑھ بن گیا ہے کیونکہ اس چینی تائید والی حکومت نے ایک ایسے بل کو منظوری دی تھی جس کے ذریعہ ہانگ کانگ کے مجرمین کی چین کو حوالگی کو قطعیت دینا مقصود تھا۔
سوڈان کو جمہوریت کی راہ میں دشواریوں کا سامنا
قاہرہ ۔ 27 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) سوڈان کو اس وقت عمر البشیر کا معزولی اور تقریباً تین دہائیوں کے بعد فوجی حکومت سے نجات حاصل کرنے کا راستہ تو ملا ہے لیکن یہ راستہ اتنا آسان نہیں بلکہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے ۔ ملک میں جمہوریت حامی مظاہروں کے بعد صدر عمرالبشیر کو برطرف کیا جاچکا ہے جبکہ برسوں کی جنگ اور بدعنوانیوں سے سوڈان کی معیشت کو کافی کمزور کردیا ہے۔ فوجی حکومت سے جمہوری حکومت کی جانب پیشرفت میں ملک کے موجودہ قائدین کو سخت چیلنجس کا سامنا ہے جس پر قابو پانے میں کتنا عرصہ درکار ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
