ہانگ کانگ کے اُمور چین کا داخلی معاملہ :پاکستان

   

جنیوا : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا داخلی معاملہ ہیں اور خود مختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔پاکستانی عہدیدار نے یہ بات جرمنی کے بیان کے جواب میں اقوام متحدہ کے پینل میں 55 ممالک کی طرف سے تقریر کرتے ہوئے کہی۔جرمنی نے چین پر ایغور مسلمانوں کے حقوق کا احترام پر زور دیتے ہوئے ہانگ کانگ کی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔الجزیرہ کے مطابق جرمنی نے 39 ممالک کی جانب سے جاری بیان کی نمائندگی کرتے ہوئے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نئے سیکیورٹی قانون کے نفاذ کے بعد ہانگ کانگ میں بڑھتے ہوئے سیاسی جبر کے الزامات کی روشنی میں ہانگ کانگ کے باشندوں کے حقوق اور آزادیوں کو سلب نہ کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے منگل کو جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کو بتایا کہ ہانگ کانگ کا خصوصی انتظامی خطہ چین کا ناگزیر حصہ ہے اور ہانگ کانگ کے امور چین کا اندرونی معاملہ ہیں جس میں غیر ملکی افواج مداخلت نہیں کرتی۔منیر اکرم نے اپنے ریمارکس میں ان ممالک کا نام دیا جنہوں نے انہیں اپنی نمائندگی کا اختیار دیا ہے اور کہا کہ وہ چین کی ‘ایک ملک، دو نظام’ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک میں قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی کے اختیارات کا انحصار ریاست پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون کا نفاذ ایک جائز اقدام ہے جس سے ‘ایک ملک، دو نظام’ پالیسی مستحکم اور پائیدار ہوتی ہے اور ہانگ کانگ کو طویل مدتی خوشحالی اور استحکام حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محفوظ ماحول میں ہانگ کانگ کے باشندوں کے جائز حقوق اور آزادیوں کا بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔