ہتک عزت کیس میں سورت کی عدالت سے راحت نہ ملنے پر راہل گاندھی گجرات ہائی کورٹ پہنچے

   

احمد آباد: کانگریس رہنما راہل گاندھی اب ہائی کورٹ میں سورت کی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کریں گے جس نے انہیں مودی سرنیم استعمال کرنے پر مجرم قرار دیا تھا۔ سورت کی عدالت کے اس فیصلے کے بعد راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کی رکنیت کی منسوخی کے چند دن بعد ہی دہلی میں اپنا سرکاری بنگلہ خالی کرنا پڑا۔ بنگلہ خالی کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ وہ صرف سچ بولنے کی قیمت چکا رہے ہیں اور وہ مستقبل میں بھی یہی سچ بولتے رہیں گے۔ چاہے اس کے لیے انہیں کوئی بھی قیمت چکانی پڑے بتا دیں کہ اس سے پہلے سورت کی عدالت میں راہل گاندھی کی جانب سے سزا کو منسوخ کرنے کی درخواست بھی پیش کی گئی تھی۔ اس دوران راہول گاندھی کی جانب سے عدالت میں ایک اور دلیل دی گئی کہ ہتک عزت کے معاملے میں کسی خاص شخص کی عزت کو ٹھیس پہنچانے کا الزام واضح ہونا چاہیے۔ عمومی طور پر کیے گئے ریمارکس یا بڑے دائرہ کار پر مشتمل ریمارکس اس میں شامل نہیں کیے جا سکتے۔ کولار کی ریلی میں راہل گاندھی نے وسیع تبصرہ کیا تھا۔ راہل کا یہ بیان بالکل ویسا ہی ہے جیسے لوگ عام زبان میں کہتے ہیں کہ لیڈر بدعنوان ہیں۔ ‘پنجابی لوگ بہت جھگڑالو ہوتے ہیں۔’ ‘بنگالی کالا جادو کرتے ہیں۔’ ایسے میں اگر کوئی لیڈر، پنجاب کا رہنے والا یا بنگال کا رہنے والا ملک کی کسی بھی عدالت میں جا کر یہ مقدمہ دائر کرے کہ اس نے مجھے بدنام کیا ہے، تو اسے ہتک عزت نہیں کہا جا سکتا۔