ہتھیار ڈالنے تک ماؤسٹوں سے مذاکرات ناممکن: بنڈی سنجے

   

ماؤسٹوں کے ہمدردوں پر تنقید، قومی دھارے میں شامل ہونے کا مشورہ
حیدرآباد 5 مئی (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے کمار نے ماؤسٹوں سے مذاکرات کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ پہلگام میں دہشت گردوں نے سیاحوں کو ہلاک کیا اور یہاں ماؤسٹ بے قصور عوام کو ہلاک کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے ماؤسٹوں سے امن مذاکرات کی تجویز پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ جنگلات میں بندوقوں کے ساتھ رہنے والے افراد سے امن مذاکرات کس طرح ممکن ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ماؤسٹوں کو ہتھیار ترک کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہوجانا چاہئے۔ بنڈی سنجے نے کہاکہ اگر ماؤسٹ ہتھیار چھوڑ دیں تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت اُن سے مذاکرات کرسکتی ہے بصورت دیگر مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے کہاکہ کئی سرکردہ سیاسی قائدین کو ماؤسٹوں نے نشانہ بنایا۔ ماؤسٹوں کے ہمدرد پروفیسر ہرگوپال اور ورا ورا راؤ کو بتانا چاہئے کہ سماج کو ماؤسٹ تحریک سے کیا حاصل ہوا؟ مرکزی وزیر نے پداپلی ضلع میں بی جے پی کارکنوں کے اجلاس میں شرکت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی ترقی پر بھاری فنڈس خرچ کئے ہیں۔ کانگریس کی 6 ضمانتوں کو 420 وعدے قرار دیتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہاکہ کانگریس حکومت وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت کی طرح کانگریس بھی عوامی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ طبقاتی سروے کو نقائص سے پُر قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہاکہ سروے کے ذریعہ پسماندہ طبقات سے ناانصافی کی گئی اور مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں شامل کیا گیا۔ ملک بھر میں پسماندہ طبقات کو انصاف دلانے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی نے قومی سطح پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ کیا ہے۔1