کولکتہ۔30 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کی ریاستی اسمبلی نے جمعہ کے دن ہجومی حملوں اور ہجومی قتل کے واقعات پر نظر رکھنے اور انہیں روکنے کے لیے ایک بل کو منظوری دے دی۔ مغربی بنگال (انسداد ہجومی قتل) بل بابتہ 2019ء کو حکومت نے جمعہ کے دن ایوان مقننہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جس کی تائید حزب مخالف کی جماعتوں کانگریس اور سی پی آئی (ایم) نے کی۔ تاہم بی جاے پی نے نہ تو اس بل کی مخالفت کی اور نہ ہی اس کی تائید کی۔ کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اس کے ذریعہ بننے والے قانون کو سیاسی حساب کتاب سے بات کرنے کے لیے استعمال کیا جاپئے گا۔ بل پر ایوان میں تقریر کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ ہجومی قتل ایک سماجی برائی بن چکا ہے اور ہم سب کو باہم مل کر اس برائی کے خلاف لڑائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی ہجومی قتل کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے آگے بتایا کہ مرکزی حکومت کو اس برائی کے خلاف قانون بنانا چاہئے تھا لیکن ابھی تک اس نے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں ہجومی قتل کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔