ہرش میندرکے گھر اور دفتر پر ای ڈی کا دھاوا

,

   

نئی دہلی :انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سابق آئی اے ایس افسر اور سماجی کارکن ہرش مندر کے گھر، دفتر اور ان کے ذریعہ چلائے جا رہے اسکول پر دھاوا کیا۔ ہرش مندر آج صبح ہی اپنی بیوی کے ساتھ جرمنی کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ای ڈی کچھ دستاویزوں کی جانچ کرنا چاہتی ہے۔ہرش مندر راجدھانی دہلی کے ادھچینی علاقے میں سنٹر پر ایکویٹی اسٹڈیز (سی ای ایس) نامی ادارہ چلاتے ہیں۔ آج صبح تقریباً 9 بجے ای ڈی کے عہدیدار سی ای ایس کے دفتر اور ہرش مندر کے گھر پہنچے۔ اس وقت دفتر کے چند ایک ملازم موجود تھے جب کہ ان کے گھر پر کوئی نہیں تھا۔ دھاوے کی کارروائی شروع ہوتے ہی سی ای ایس کے اکاونٹینٹ دفتر پہنچ گئے تھے۔ ساتھ ہی ہرش مندر کی بیٹی اور ان کے اہل خانہ بھی اطلاع ملنے پر پہنچ گئے تھے۔ ای ڈی افسران نے ان سبھی کے موبائل فون بند کر دیئے تھے۔ اْدھر امید امن گھر کے نام کے لڑکوں کے اسکول میں بھی ای ڈی کی ٹیم پہنچی تھی۔ وہاں بھی اس وقت مینجمنٹ کاکچھ اسٹاف موجود تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہرش مندر اپنی بیوی کے ساتھ آج صبح ہی ایک اسکالرشپ پروگرام میں حصہ لینے کے لیے جرمنی گئے ہیں۔ انھیں یہ اسکالرشپ برلن کے رابرٹ بوش اکیڈمی نے دی ہے اور وہ وہاں 9 مہینے رکنے والے تھے۔ ہرش مندر نے 2017 میں کاروانِ محبت نام کی سول لبرٹی مہم شروع کی تھی جس کے تحت ہیٹ کرائم کے متاثرین کی مدد کی جاتی ہے اور انھیں انصاف دلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اکتوبر 2020 میں قومی اطفال حقوق تحفظ کمیشن نے بھی ہرش مندر سے جڑے جو چلڈرن ہوم ’امید امن گھر‘ اور ’خوشی ریمبو ہوم‘ پر دھاوا کیا تھا۔ یہ دھاوا اس وقت کیا گیا تھا جب دہلی میں سی اے اے مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے اس وقت ہرش مندر نے کہا تھا کہ حکومت ان لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہروں میں شامل ہوئے تھے۔ دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں بھی دہلی پولیس نے ہرش مندر کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا تھا۔اس سال یعنی 2021 کی فروری میں دہلی پولیس کے معاشی جرائم برانچ نے ان دونوں اسکولوں اور ہرش مندر کے ادارہ سی ای ایس کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ اس میں سی ایس پر دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش کے دفعات لگائے گئے تھے۔ پولیس نے یہ کیس حقوق اطفال تحفظ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا تھا۔ای ڈی کے دھاوؤں کی ماہرین تعلیم ، قانون داں اور صحافیوں سمیت 600 افراد نے مذمت کی ۔