ہرمن پریت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ

   

نئی دہلی ۔ ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ہرمن پریت کورکی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں جوکچھ کیا اس کے لیے اب ان پر انگلی اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ صرف ان کے اپنے یعنی ہندوستانی کرکٹ سے وابستہ لوگ ہی ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہرمن پریت کی حرکتوں سے کرکٹ کا نام داغدار ہوا ہے اور اس کے لیے وہ معافی کی اہل نہیں ہیں۔ دراصل ان کا مسئلہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریزکے تیسرے اور آخری ونڈے سے متعلق ہے۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا سیریزکا آخری ونڈے میچ ٹائی رہا لیکن اس میچ کے دوران اور بعد میں ہرمن پریت نے کیا کیا اس میچ کے نتیجے سے زیادہ بحث کا موضوع بن گیا۔ ہرمن پریت نے اپنی ہی وکٹ پر ہنگامہ کھڑاکردیا تھا۔ اس فیصلے پر وہ امپائر سے الجھ گئیں۔ یہاں تک کہ غصے میں بیٹ سے وکٹ بھی مارا۔ میدان کے درمیان میں ہونے والی ان چیزوں کی آگ میدان کے باہر بھی نظر آئی۔ خاص طور پر جب میچ ٹائی ہونے کے بعد دونوں ٹیموں کو ٹرافی دی گئی اور فوٹو سیشن کے دوران ہرمن پریت نے بنگلہ دیشی کپتان سے کچھ کہا جو بالکل نامناسب تھا۔ لوگوں کو ہرمن پریت نے بنگلہ دیشی کپتان سے جو کہا اس سے زیادہ برا لگا کہ ہرمن پریت نے میدان میں کیا کیا۔ اور اب اس کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ بی سی سی آئی سے ہرمن پریت کور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سابق ہندوستانی کرکٹر مدن لال اس طرح کا مطالبہ کرنے میں پہلی صف میں ہیں۔ مدن لال نے ٹویٹ کرکے بی سی سی آئی سے ہرمن پریت کورکے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ہرمن پریت نے بنگلہ دیش میں جوکیا اس سے ہندوستانی کرکٹ کا نام بدنام ہوا ہے۔ کوئی کھلاڑی کھیل سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اس نے جوکیا وہ بہت مایوس کن ہے۔ بتادیں کہ ہرمن پریت کور پر پہلے ہی بنگلہ دیش میں ان کی حرکتوں پر ان کی میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 3 ڈیمیرٹ پوائنٹس بھی کاٹے گئے ہیں لیکن اب ان کی طرف سے بی سی سی آئی سے کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ اب سخت قدم اٹھاتا ہے یا اس معاملے پر نرمی برقرار رہتی ہے۔