ہریانہ اور جموں و کشمیر ‘ کانگریس کی واپسی

   

روشنی درد کے بے نور بدن سے نکلی
راکھ کے ڈھیر میں چنگاری کا امکان نہ تھا
ریاست ہریانہ اور جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور ایگزٹ پولس بھی سامنے آگئے ہیں۔ ایگزٹ پولس توقعات کے مطابق دکھائی دے رہے ہیں اور کانگریس پارٹی دونوں ہی ریاستوں میں اقتدار پر واپسی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ حالانکہ یہ محض ایگزٹ پولس ہیں اور حقیقی نتائج کا 8 اکٹوبر منگل کو اعلان کیا جائیگا تاہم جو ایگزٹ پولس سامنے آئے ہیں اگر وہ درست ثابت ہوتے ہیں ‘ جس کی توقع کی جا رہی ہے ‘ تو پھر صورتحال کانگریس کے حق میں بہت بہتر دکھائی دے رہی ہے ۔ پارٹی کیلئے آئندہ سیاسی سفر مزید سہولت بخش اور آسان ہوسکتا ہے ۔ اس کے اثرات مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ کے نتائج پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور کانگریس کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتوں کیلئے بھی صورتحال مزید بہتر ہوسکتی ہے ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل میں کانگریس کے ساتھ رہی ہیں ان کیلئے زیادہ مثبت صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جبکہ جو جماعتیں انتخابات سے قبل شرائط عائد کرتے ہوئے انتخابی عمل میں تنہا عوام سے رجوع ہوئی تھیں انہیں اپنا محاسبہ کرنے اور حقیقی صورتحال کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ ہریانہ میں کانگریس پارٹی تنہا اقتدار پر واپسی کرتی نظر آر ہی ہے ۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ ایگزٹ پولس ان اداروں کی جانب سے کئے گئے ہیں جو اکثر و بیشتر بی جے پی کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور کانگریس کی مخالفت میں ان کا موقف مسلمہ دکھائی دیتا ہے ۔ کئی مواقع پر ان اداروں کی جانب سے کانگریس کو نشانہ بنانے اور مرکزی حکومت و بی جے پی کی حمایت میںواضح دکھائی دیا ہے ۔ ہریانہ میں انتخابات کی بہت زیادہ اہمیت رہی تھی کیونکہ وہاں دو معیادوں سے بی جے پی اقتدار میں تھی اور یہ دعوی کر رہی تھی کہ ریاست کے عوام اسے ہیٹ ٹرک کا موقع دینے کا موڈ بنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس پارٹی ابتداء سے یہ دعوی کر رہی تھی کہ اسے عوام کی تائید و حمایت حاصل ہوگی اور عام آدمی پارٹی ہو یا پھر ہریانہ کی علاقائی جماعت جن نائک جنتا پارٹی ہو وہ عوام کی تائید حاصل کرنے کے موقف میں نہیں رہ گئے ہیں۔ اچھی بات یہ دکھائی دے رہی ہے کہ عوام نے اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے نہیں دیا اور کانگریس پارٹی اور اس کے امیدواروں کے حق میں مثبت رائے دہی کی ہے ۔
جہاں تک انتخابی مہم کی بات ہے تو دو معیادوں تک اقتدار پر برقرار رہنے کے باوجود بی جے پی اپنے کارناموں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے موقف میں تک نہیں رہ گئی تھی ۔ اس نے دس برسوں میں ایسا کچھ کام نہیں کیا تھا جس کے نتیجہ میں اسے عوام کی تائید دوبارہ ملنے کا یقین ہو ۔ بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران عوامی مسائل پر بھی توجہ نہیں کی اور نہ ہی آئندہ پانچ سال میں کئے جانے والوں کاموں کے تعلق سے کوئی منصوبہ ہی پیش کیا تھا ۔ بی جے پی محض غیر متعلقہ مسائل اور نزاعی مسائل کو ہی موضوع بحث بنانے میںمصروف ہوگئی تھی ۔ کبھی پاکستان کا تذکرہ کیا جاتا رہا تو کبھی راہول گاندھی کو نشانہ بنانے پر توجہ دی گئی ۔ کبھی کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کے داماد کو موضوع بنایا گیا تو کبھی کسی کو گھسیٹنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے تو اس نے ابتداء ہی سے عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دی تھی اور عوام سے مختلف وعدے کرتے ہوئے ان کیلئے فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ کانگریس قائدین چاہے وہ راہول گاندھی ہوں یا پھر پرینکا گاندھی ہوں یا پھر ریاستی قائدین بھوپیندر سنگھ ہوڈا ہوں یا پھر کماری شیلجا ہوں سبھی نے عوام کی نبض کو اور ان کے موڈ کو سمجھتے ہوئے کام کرنے پر توجہ دی تھی ۔ ان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے انہیں حل کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کیلئے پارٹی کی جانب سے مختلف وعدے کئے گئے تھے اور شائد عوام نے ان ہی وعدوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے اورکانگریس اقتدار پر واپسی کرتی نظر آ رہی ہے ۔
جہاں تک جموں و کشمیر کی بات ہے تو بی جے پی کیلئے یہ بھی ایک سبق سے کم نہیں ہے کیونکہ گذشتہ پانچ برسوں سے بی جے پی کا ریاست پر بالواسطہ کنٹرول رہا ہے ۔ عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ریاست کے عوام کو بنیادی سہولیات سے تک محروم ہونا پڑا تھا ۔ بی جے پی جموں و کشمیر کے تعلق سے کئی طرح کا پروپگنڈہ تو کرتی رہی ہے اور حالات کے بہتر ہونے کے دعوے کئے گئے لیکن عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ بی جے پی کے پروپگنڈہ کے شکار ہوئے بغیر اپنے مسائل کی بنیاد پر رائے دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جو ایگزٹ پولس سامنے آئے ہیں اگر وہ نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں تو پھر یہ بی جے پی کیلئے محاسبہ کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں اور جھارکھنڈ و مہاراشٹرا کیلئے ماحول بالکل مختلف ہوجائیگا اور کانگریس کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔
مہنگائی پر قابو پانا ضروری
سارے ملک میں ان دنوں مہنگائی عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ عوام کیلئے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کا حصول بھی آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ ترکاری ہو کہ دالیںہوں ‘ چاول ہوں کہ دودھ ہو ‘ تیل ہو کہ فیول ہو ‘ ادویات ہوں یا ضرورت کی دیگر اشیاء ہوں سبھی کی قیمتیں خاموشی کے ساتھ مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ عوام پہلے اضافہ سے سنبھلنے بھی نہیں پاتے کہ پھرا یک بار ان کی قیمتوں میں خاموشی سے اضافہ کردیا جاتا ہے اور عوام دو وقت کی روٹی کے حصول میں ہی مصروف ہوجاتے ہیں۔ وہ بنیادی مسائل پر توجہ ہی نہیں دے پا رہے ہیں۔ جہاں تک حکومتوں کا سوال ہے تو ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت ہو یا پھر دوسری ریاستوں کی حکومتیں ہوں سبھی اس معاملہ میں غفلت برت رہے ہیں اور حقیقت کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ عوام کو مہنگائی کی مار سہنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے اور انہیں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں ان کو دور کرنے پر کسی کی توجہ نہیں رہ گئی ہے ۔ حکومتیں اپنے اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں اور اس کے نتیجہ میں عوام کئی طرح کے مسائل کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ہوں سبھی کو اس معاملے میں حرکت میں آنا چاہئے ۔ عوام کے مسائل کو سمجھنا چاہئے ۔ عوام کو راحت فراہم کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں اور کالا بازاری کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہئے ۔ مہنگائی کو بے ہنگم انداز میں لگاتار بڑھتے رہنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا ۔