گروگرام: نوح میں تشدد کے ایک دن بعد، تشدد گروگرام اور ہریانہ کے دیگر اضلاع میں بھی پھیل گیا۔ اس دوران گروگرام کے سوہنا کی مسجد بھی فرقہ پرستوں کا نشانہ بن گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 70تا100 شرپسندوں کے ہجوم نے اس جگہ پر توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران مسجد کے اندر بنے مدرسے میں پڑھنے والے 10تا12 بچوں اور امام کے اہل خانہ کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ پڑوس میں رہنے والے مقامی سکھ برادری کے لوگ آگے آئے اور اپنی جان کی بازی لگاکر ان کے مال و جان کی حفاظت کی۔ مسجد کے امام کے مطابق تشدد شروع ہوتے ہی سکھ برادری کے لوگ آگے بڑھے اور مسجد میں پھنسے ان لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ گروگرام کی شاہی مسجد کے نام سے مشہور اس مسجد میں کچھ خاندانوں کے لیے کمرے اور بچوں کے لیے کلاس روم بنائے گئے تھے۔ مسجد میں اپنے چار بھائیوں کے ساتھ رہنے والے امام کلیم نے بتایا کہ یہاں کل 30 لوگ رہتے تھے۔ جب ہم نے 2.15 بجے فائرنگ کی آواز سنی تو ہم باہر نکل آئے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے وہاں دیکھا کہ فرقہ پرستوں کا ہجوم لاٹھیوں، سلاخوں اور خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ ہماری طرف دوڑ رہا ہے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ آج ہمیں مار دیا جائے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی اس کمرے کے قریب پہنچ چکے تھے ،جہاں ہم چھپے ہوئے تھے لیکن محلے میں رہنے والے مقامی لوگ بروقت پہنچے اور ہمیں وہاں سے نکال لیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے اس ہجوم کو روکا اور خواتین اور بچوں کو بھی بچایا، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی 10 منٹ میں جائے واردات پر پہنچ گئی۔