ریاستی وزیرداخلہ انل وج نے ضلع نوح کی صورتحال کا جائزہ لیا، گروگرام کی تمام مساجد میں پولیس تعینات
نئی دہلی: ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے منگل کو نوح تشدد کی جانچ کا حکم دیا اور کہا کہ آتش زنی اور تشدد کا سہارا لینے والا ہجوم ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ انتظامیہ تشدد کے بعد امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات تیز کر دئیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آج صبح 11 بجے سوہنا اور نوح دونوں میں امن کمیٹی کے اجلاس ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ یہ میٹنگیں تشدد سے متاثرہ ان دونوں علاقوں میں اگلے چند دنوں میں جاری رہیں گی، جب تک انتظامیہ کو زمین پر حالات دوبارہ معمول پر آنے کا احساس نہ ہو جائے۔ہریانہ میں نوح ضلع میں پیر کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد پانچ افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ تشدد پیر کی شام ایک مذہبی جلوس کے دوران شرپسندوں کے ہجوم کی طرف سے پتھراؤ اور کاروں کو نذر آتش کرنے کے بعد شروع ہوا تھا۔پولیس کے مطابق ایک مذہبی جلو س برج منڈل جل ابھشیک یاترا جسے گروگرام کے سول لائنز سے بی جے پی کے ضلع صدر گارگی ککڑ نے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا، اسے نوح کے کھیڑلا موڑ کے قریب ایک گروپ نے روکا تھا۔ ضلع گروگرام کے سیکٹر 57 علاقے میں منگل کو انجمن مسجد کے باہر پولیس اہلکار کی موجودگی میں آگ لگا دی گئیاور ہجوم نے تقریباً12بجے کے قریب حملہ کرکے امام مسجد حافظ سعد کو شہید کردیا۔جیسے ہی ریاست میں کشیدگی بڑھ گئی، نوح اور گروگرام، فرید آباد، پلوال اور ریواڑی اضلاع میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگانے والے امتناعی احکامات نافذ کر دیئے گئے۔وہیں نوح اور فرید آباد میں بھی بدھ تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ حکام نے اگلے احکامات تک سوہنا، پٹودی اور مانیسر میں انٹرنیٹ بھی معطل کر دیا۔گروگرام کی تمام مساجد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔انتظامیہ نے منگل کی سہ پہر کو بتایا کہ فی الحال سوہنا میں حالات قابو میں ہیں۔ کچھ جگہوں پر کچھ دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔ہریانہ تشدد پر راجستھان کے بھرت پور میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں۔خیال رہے کہ یہ افواہ پھیلائی گئی کہ بھیوانی دوہرے قتل کیس کے کلیدی ملزم مونو مانیسر جلوس میں شرکت کریں گے۔ بھیوانی کیس دو مسلم کزن جنید اور ناصر کی موت سے منسلک ہے، جن کی جلی ہوئی لاشیں فروری میں ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں ایک فور وہیلر کے اندر سے ملی تھیں۔ دونوں مرنے والے راجستھان کے بھرت پور کے گھاٹمیکا گاؤں کے رہنے والے تھے۔اس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوتی چلی گئی۔جس کے بعد پورے میوات میں فرقہ پرستوں کی طرف سے آگ لگادی گئی۔
ہریانہ کے تشدد کا راجستھان میں اثر
نئی دہلی: ہریانہ کے نوح میں ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ نکالی گئی یاترا کے دوران جو زبردست فرقہ وارانہ تصادم 31 جولائی کو دکھائی دیا تھا، اس کی آگ اب قریبی ریاست راجستھان میں پہنچ گئی ہے۔ نوح کے بعد ہریانہ کے گروگرام میں 31 جولائی کی دیر شب ایک مسجد کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا، اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راجستھان کے بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ اس معاملے میں نصف درجن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بھیواڑی میں منگل کے روز الور بائپاس واقع گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔اس دوران دکانوں میں بیٹھے لوگ کسی طرح سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔شورش پسندوں نے نہ صرف دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، بلکہ اس میں رکھے سارے سامان کو بھی تہس نہس کر دیا۔خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ گوشت کی دکانوں کے سامنے ٹین شیڈ لگے ہوئے تھے جنھیں توڑ کر نیچے گرا دیا گیا۔ جیسے ہی پولیس کو شورش پسندوں کے ہنگامہ کی جانکاری ملی، پولیس فورس موقع پر پہنچا۔ پولیس کو دیکھتے ہوئے شر پسند عناصر قریب میں موجود جنیسس شاپنگ مال کے اندر گھس گئے۔ پولیس نے فوراً مال کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔فی الحال پولیس نے نصف درجن مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے اور مزید کی تلاشی مہم جاری ہے۔