منی پور میں تشدد سے بیرونی افراد بھی متاثر، ریاست چھوڑنے پر مجبور
چندی گڑھ: ہریانہ حکومت نے منی پور میں تشدد پھوٹنے کے بعد وہاں زیر تعلیم ریاست کے طلبہ کی بحفاظت واپسی کیلئے ٹھوس انتظامات کیے ہیں، جس کے پیش نظر طلبہ بحفاظت اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔پانچ طلبہ کا پہلا گروپ پیر کی رات دیر گئے دہلی پہنچا۔ ان طلباء نے دہلی کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی اپنی بحفاظت گھر واپسی پر ہریانہ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ طلباء نے کہا، “ہمیں بحفاظت گھر پہنچانے کیلئے ہریانہ حکومت کا شکریہ۔”ہریانہ کے طلباء کا پہلا گروپ جو منی پور سے واپس آئے ان میں مہندر گڑھ سے کملکانت، جیند سے ریتو، پلوال سے شیوانی، سرسا سے نیہا اور روہتک سے ساگر کنڈو شامل تھے ۔دہلی ہوائی اڈے پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان طلباء نے کہا کہ ریاستی حکومت نے انہیں منی پور سے ہریانہ واپس لانے کے لئے تمام انتظامات کئے ہیں اور ان کے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کا بھی انتظام کیا ہے ۔طلبہ نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ہریانہ حکومت نے منی پور میں زیر تعلیم ریاست کے طلباء کی فہرست بھی تیار کی ہے ۔ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق منی پور کے مختلف اداروں میں 16 طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں سے پانچ طلبہ کی ٹیم بحفاظت ریاست واپس پہنچ گئی ہے اور دوسری ٹیم منگل کو وہاں سے روانہ ہوگی۔اہم بات یہ ہے کہ منی پور کے قبائلی اور اکثریتی میتی کمیونٹی میں گزشتہ ہفتے تشدد پھوٹنے کے بعد اب تک 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد تشدد سے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ ہے ۔ تشدد کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
