سرسا: سرسا سمیت سارے ہریانہ میں محکمہ صحت کے تمام زمرے کے ملازمین نے حکومت کے ان کے زیر التوا مطالبات کو نہ ماننے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سیاہ پٹیاں لگاکر ڈیوٹی کی۔صحت کے کارکنوں نے اس کے بعد اپنے مطالبات کا ایک یادداشت ضلع سول سرجن کو پیش کی ۔ ہیلتھ ایمپلائز یونین کے ہریانہ ریاست کے جنرل سکریٹری رمیش کمار ، محکمہ کے کورونا وارئیرس آنجہانی جند سے ہمت مور ، پلول سے سنجے اور نیلم اور دیگر تمام متوفی ملازمین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ، حکومت سے اعلان کردہ رقم بلا تاخیر ان کے لواحقین کے کھاتے میں بھیجنے ، اور ان کو شہید کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔یونین کے ریاستی سکریٹری وپن شرما نے کہا کہ حکومت ایک طویل عرصے سے صحت کارکنوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کررہی ہے ۔ ہیلتھ ورکر قومی مفاد میں کام کر رہے ہیں اور جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس وقت کورونا واریرس کی ہلاکت کے باوجود ، حکومت نے ان پر توجہ نہیں دی ہے ، اس کے خلاف احتجاج کے طور پر ، ریاست کے تمام اضلاع میں انتظامیہ کو بیدار کرنے سیاہ پٹیاں لگاکر کام کیا جارہا ہے ۔ اگر حکومت مطالبات پر دھیان نہیں دیتی ہے تو ملازمین کو مجبوراً احتجاج جدوجہد کی راہ اپنانا ہوگی ، اس کیلئے 24 مئی کو ریاست بھر میں چیف منسٹر منوہر لال کھٹرکو میمورنڈم پیش کیا جائیگا۔ہٹائے گئے ہیلتھ کیئر ورکرز آؤٹ سورسنگ ورکرز کو دوبارہ ڈیوٹی پر لینے ،سکیورٹی گارڈز کا معاہدہ ایک سال کرنے ، ٹھیکہ داری نظام ختم کرنے اور ہر ایک کو روسٹر سسٹم ، ملازمین کو سروس سکیورٹی فراہم کرنے ، سروس رولز میں باقی تنخواہوں میں یکسانیت لانے کا مطالبہ ہے