ہریانہ میں مسجد کوآگ لگادی گئی ،معتکف امام و دیگر افرادمحفوظ

,

   

چندی گڑھ : /12 مارچ (ایجنسیز) ہریانہ کے ضلع پلول کے گاؤں ٹکری برہمن علاقہ میں ایک مسجد کو آگ لگانے کی ناپاک و اشتعال انگیز کوشش کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ 11 مارچ کی رات تقریباً 1.25 بجے پیش آیا جب نامعلوم شدت پسندوں نے مسجد کی کھڑکی توڑ کر اندر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔ اس وقت مسجد کے امام اور تین دیگر افراد رمضان کے آخری عشرے کی عبادت اعتکاف میں ہونے کی وجہ سے مسجد کے اندر سو رہے تھے۔دی ابزرور پوسٹ کی اطلاع کے مطابق مسجد کے امام زبیر، اقبال، حنیف اور سہیل مسجد میں مقیم تھے۔ رات کے وقت اچانک انہیں دھواں اور گرمی محسوس ہوئی جس پر ان کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے فوراً شور مچایا جس پر گاؤں کے دیگر لوگ موقع پر پہنچ گئے اور سب نے مل کر آگ پر قابو پا لیا۔ بروقت کارروائی کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بڑی تباہی سے بچاؤ ممکن ہو گیا۔امام زبیر کی شکایت پر پولیس نے رامروپ اور دیگر نامزد و نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ورون سنگلا نے بتایا کہ واقعہ کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے اسپیشل کرائم یونٹ اور سائبر سیل کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس ترجمان سنجے کمار نے بتایا کہ علاقہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے اور مقامی لوگوں سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔مقامی افرادکا کہنا ہے کہ ٹکری برہمن گاؤں پہلے بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کی خبروں میں رہ چکا ہے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ماضی میں یہاں فسادات ہو چکے ہیں جبکہ 2025 میں بھی مسجد کے خلاف مبینہ مذہبی تبدیلی کے الزامات لگا کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔لوگوں نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ پر حملہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس سے علاقہ میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ واقعہ کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر گاؤں میں پانچ سے چھ پولیس ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور مسلسل گشت جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ عبادت گاہ پر حملے جیسے سنگین معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔