صابر ملک پربیف کھانے کا الزام ‘ساتھی شدید زخمی‘ 5گئو رکھشک گرفتار
چندی گڑھ:ہریانہ کے چرخی دادری ضلع میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک تارکین وطن کارکن صابر ملک کو مبینہ طور پر (بیف) گائے کا گوشت کھانے کے شک میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے الزام میں 5 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو کہ گئو رکشک گروپ کا حصہ ہیں۔ پولیس نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق صابر ملک کو 27 اگست کو قتل کیا گیا تھا۔ ملزمین ابھیشیک، موہت، رویندر، کمل جیت اور ساحل کو شک تھا مقتول نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے صابر کو پلاسٹک کی خالی بوتلیں بیچنے کے بہانے ایک دکان پر بلایا اور پھر اسے بری طرح زد و کوب کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگوں نے مداخلت کی تو ملزمین صابر ملک کو کسی دوسری جگہ لے گئے اور اسے دوبارہ مارا پیٹا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ صابر ملک چرخی دادری ضلع میں بنڈھرا گاؤں کے قریب ایک جھونپڑی میں رہتا تھا اور روزی روٹی کے لیے کباڑ خریدتا اور فروخت کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ تمام پانچ ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس معاملے میں دو نابالغوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمین کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مغربی بنگال کے دو نوجوان چرخی دادری میں کوڑا اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ یہاں وہ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ گئو رکشا دل کے ارکان کو شبہ ہے کہ صابر ملک (23) نے بیف پکا کر اپنے ساتھی کے ساتھ کھایا۔ اس دوران 27 اگست کو ہجوم نے اس کو گھر لے گیا اور پھر لاٹھی اور ڈنڈوں سے اس کی بے دردی سے پٹائی کی گئی۔اس دوران صابر ملک کی موت ہوگئی جبکہ اس کا دوست زخمی ہوگیا۔ چرخی دادری کے باڈھرا پولیس اسٹیشن نے اس معاملے میں ایک کیس درج کرلیا ہے۔ حالانکہ پولیس نے اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس معاملے کو لے کر ایس پی پوجا وشیشٹھ نے جائے واردات کا معائنہ بھی کیا تھا لیکن میڈیا سے بات نہیں کی۔ گرفتار ملزمین مقامی ہیں۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں نوجوان نے بتایا کہ اس کے بہنوئی اور وہ یہاں کوڑا اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور بیف کھانے کے شک میں ان کی پٹائی کی گئی جس کی وجہ سے اس کے بہنوئی کی موت ہوگئی۔ اس کی بہن بھی یہیں رہتی ہے۔ بعد ازاں ملزمین نے اس کی بھی پٹائی کی اور خالی پلاٹ میں پھینک دیا تھا۔اس واقعہ کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں کچھ لوگ موٹی لاٹھیوں سے دونوں نوجوانوں کی بے دردی سے پٹائی کرتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ خواتین بھی نظر آرہی ہیں۔ وہیں دونوں نوجوانوں کو بچانے کے لیے کسی نے کوئی کوشش نہیں کی۔ قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے خاندان کافی عرصے سے قصبہ کے ستنالی روڈ پر واقع کچی آبادیوں میں رہ رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کچرا اٹھاتے ہیں۔