ہریانہ میں کانگریس کا اسمبلی میں اکثریت کا دعویٰ

   

چنڈی گڑھ: ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے اکثریت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ریاست میں نائب سنگھ سینی کی حکومت اقلیت میں آ گئی ہے۔کانگریس ارکان اسمبلی کی تعداد گناتے ہوئے ہڈا نے کہا کہ کانگریس کے پاس 30، جے جے پی کے 10 اور آزاد 3 ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کل تعداد 45 بتائی ہے۔ایم ایل اے کیلئے پریڈ منعقد کرنے کی بھی بات ہوئی ہے۔ ہڈا نے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی سے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ طلب کیا ہے۔ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے اور نئے انتخابات کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ صورتحال پر بات چیت کیلئے گورنر سے 10 مئی کو ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے۔

ہریانہ میں 3 ا?زاد ایم ایل ایز کے نایب سنگھ سینی حکومت سے حمایت واپس لینے کے اعلان کے بعد جننائک جنتا پارٹی بھی سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ جے جے پی نے گورنر بنڈارو داترے کو خط لکھ کر ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مناسب فیصلہ لینے کی درخواست کی ہے۔جے جے پی لیڈر اور ریاست کے سابق نائب وزیر اعلی دشینت چوٹالہ نے گورنر کو بھیجے گئے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ نایاب سنگھ سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اقلیت میں ہے۔ ہریانہ میں اس وقت سیاسی ہلچل مچ گئی جب 7 مئی کو ریاست کے تین ا?زاد ایم ایل ایز نے بی جے پی حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا۔جن تین ایم ایل اے نے ہریانہ کی نائب سنگھ سینی کی حکومت سے حمایت حاصل کی ہے ان میں پلندری کے رندھیر گولن، نیلوکھیری کے دھرم پال گوندر اور چرخی دادری کے سوم ویر سنگوان شامل ہیں۔7 مئی کو ایک پریس کانفرنس میں ا?زاد ایم ایل اے نے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔اس دوران کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا تھا کہ صحیح وقت پر لیا گیا فیصلہ ضرور نتیجہ خیز ہوگا۔ ہریانہ میں تین ا?زاد ایم ایل ایز کی حمایت واپس لینے کے بعد نایب سنگھ سینی کی حکومت کے پاس صرف 43 ایم ایل اے ہیں۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور رنجیت چوٹالہ کے استعفیٰ کے بعد ریاستی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی کل تعداد 88 ہو گئی ہے۔ اس اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 45 ایم ایل ایز کی حمایت درکار ہے۔