گھیسرا ہندو مسلم اتحاد کا مثالی نمونہ، مسلم پڑوسیوں کے اخلاق سے ہندو آبادی متاثر
حیدرآباد ۔5 اگست (سیاست نیوز) ایک ایسے وقت جبکہ ہریانہ میں غریب مسلمانوں کی بستیوں، آبادیوں کو بلڈوزر کے ذریعہ زمین دوز کیا جارہا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں اور حقیقی مجرمین و قاتل آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ مسلمانوں نے فسادات کے دوران ایک مندر کی حفاظت کرتے ہوئے فرقہ پرست درندوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ تم ملک کو تباہ و برباد کرنے کی لاکھ کوشش کرلو، جھوٹ کی بنیاد پر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاؤ، ایک دن تم اور تمہاری فرقہ پرستی منہ کے بل گر پڑے گی۔ ہریانہ کے ضلع نوح میں بھڑکائے گئے فسادات میں مسلمانوں کی دکانات کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا لیکن اس ضلع کے ایک گاؤں گاندھی گرام گھیسرا میں مسلمانوں نے مندر کی حفاظت کی۔ اس ضمن میں سی این بی سی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جن میں ایک 20 سالہ نوجوان زید خان کا کہنا ہیکہ سماجی دھاگہ اور دوستی ہمارے گاؤں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ ملک کی تقسیم کے وقت بابائے قوم مہاتما گاندھی اس گاؤں کو آئے تھے۔ زید اور دیگر 13 مسلم نوجوانوں کے ساتھ باری باری سے ان کے گاؤں میں موجود واحد مندر پر پہرہ دیا تاکہ غیرسماجی عناصر فضاء کو مکدر نہ کریں۔ اس گاؤں کے پڑوسی علاقوں نوح اور بادشاہ پور میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ گھیسرا گروگرام بادشاہ پور کے جنوب میں 30 کیلو میٹر پر واقع ہے اور ایک مسلم اکثریتی گاؤں ہے جہاں 150 ہندو خاندان بھی مقیم ہیں۔ اس گاؤں میں مندر مسجد آمنے سامنے موجود ہیں جنہیں ایک چھوٹا سا کنٹہ علحدہ کرتا ہے۔ جب سے نوح میں فساد پھوٹ پڑا مذکورہ گاؤں کے مسلمان اپنے ہندو پڑوسیوں کے ساتھ مندر کی حفاظت کررہے ہیں۔ 42 سالہ محمد عرفان نے جو پیشہ سے ٹیکسی ڈرائیور ہے، کہتے ہیں کہ ہم تمام مل کر مندر کی حفاظت کررہے ہیں کیونکہ اکثر باہر کے لوگ آکر تشدد پیدا کرتے ہیں۔ اس گاؤں میں ہندوؤ اور مسلمانوں کی دوستی مضبوط و مستحکم ہے۔ پنڈت رام سوروپ جن کی چار نسلیں اس گاؤں میں زندگی گذار چکی ہیں، کہتے ہیں کہ جب سے گاؤں بنا تب سے مندر کھڑا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گاؤں میں ہم اقلیت میں ہیں لیکن گاؤں کا ماحول بہت اچھا ہے۔ یہاں تک 1992ء میں شہادت بابری مسجد کے وقت سارے ملک میں ماحول زہرآلود ہوگیا تھا۔ گاؤں کے مسلمانوں نے ہماری حفاظت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ہاں ایک بات ضرور ہیکہ گاؤں کے ہندو اور مسلمان فی الوقت گاؤں سے باہر جانے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔