ہریدوار ‘دھرم سنسد’ میں اشتعال انگیز تقریر کرنے والے یتی نرسمہانند کے خلاف توہین کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔اٹارنی جنرل وینوگوپال نے اس سلسلے میں اپنی منظوری دے دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سماجی کارکن ساچی نیلی نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اے جی سے رضامندی طلب کی تھی۔ بتادیں کہ توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے سے پہلے اے جی کی رضامندی ضروری ہے اس کے باوجود نرسمہانند کو 15 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وسیم رضوی کے بعد اس کیس میں یہ دوسری گرفتاری تھی۔ بتادیں کہ 17-19 دسمبر 2021 کو ہریدوار میں منعقدہ مذہبی اجتماع میں مختلف مذہبی رہنماؤں نے توہین آمیز تقاریر کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال پر زور دیا تھا، کافی غم و غصے اور مذمت کے بعد اتراکھنڈ پولیس نے پہلے صرف ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔ – وسیم رضوی کے نام پر ایف آئی آر درج کی گئی، بعد میں اس معاملے میں چار اور نام شامل کیے گئے – ساگر سدھو مہاراج، یتی نرسمہانند، دھرما داس اور پوجا شکون پانڈے۔ اس تقریب کا اہتمام مذہبی رہنما یتی نرسمہانند نے کیا تھا، جن پر ماضی میں اپنی اشتعال انگیز تقاریر سے تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا ہے۔