اقلیتی بہبود میں تلنگانہ سرفہرست، وزیر داخلہ اور دیگر قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔/8 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو اقلیتی رائے دہندوں کی تائید کیلئے وزیر فینانس ہریش راؤ کی جانب سے منسٹرس کوارٹرس میں حضورآباد کے ائمہ و موذنین اور ذی اثر شخصیتوں کا اجلاس طلب کیا گیا۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی، نائب صدرنشین پلاننگ بورڈ بی ونود کمار، سابق وزیر ای پیدی ریڈی، ایس سی کارپوریشن کے صدرنشین جی سرینواس، سابق صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن اکبر حسین اور حضورآباد کے اقلیتی قائدین نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر فینانس نے اقلیتوں کی بھلائی کیلئے کے سی آر حکومت کی جانب سے شروع کردہ اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں اقلیتی بہبود کا بجٹ ناکافی تھا۔ تلنگانہ کی تشکیل اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی حکومت کے قیام کے بعد نہ صرف اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا بلکہ نئی اسکیمات متعارف کی گئیں جس سے اقلیتیں بھر پور استفادہ کررہی ہیں۔ ہریش راؤ نے ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ کی بروقت اجرائی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے 204 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ جونیر کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسکول اور کالجس میں کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدہ کے تحت اسکولس قائم کئے گئے۔ہریش راؤ اور وزیر داخلہ محمود علی نے شادی مبارک اسکیم کے تحت غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد کی فراہمی کو کے سی آر حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ اقلیتی رائے دہندوں کو یقین دلایا گیا کہ حکومت حضورآباد میں تمام زیر التواء اسکیمات پر عمل کرے گی اور دیگر طبقات کے مماثل اقلیتوں کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔ مقامی ٹی آر یس قائدین اور ائمہ و موذنین نے ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے کا عہد کیا۔ حضورآباد میں فرقہ پرست بی جے پی کو شکست دینے کیلئے اقلیتوں کی تائید اہمیت کی حامل رہے گی۔ای راجند کے استعفی کے بعد اس حلقہ میں ضمنی چناو ہوگا۔
