تلنگانہ میں دن دھاڑے دستور کا قتل ہورہا ہے ، راہول گاندھی خاموش ہیں
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے حکمران کانگریس پر دن دھاڑے جمہوریت اور دستور کا قتل کردینے کا الزام عائد کیا ۔ جمہوری اور دستوری اقدار کا تحفظ کرنے کے لیے آواز اٹھانے والے بی آر ایس قائدین پر جھوٹے مقدمات درج کرنے اور جیل بھیجنے کی مذمت کی ۔ ہریش راؤ نے آج عادل آباد جیل پہونچکر بی آر ایس کے سابق ایم ایل اے بلکا سمن سے ملاقات کی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع منچریال کے کیتن پلی میں کانگریس حکومت نے دن دھاڑے جمہوریت کا قتل کیا ہے ۔ کانگریس قائدین کا خواتین کے ساتھ غیر مہذب برتاؤ ناقابل قبول ہے ۔ اس معاملے کو ریاستی وزیر جی ویویک نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا ہے ۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے بعض کونسلرس نے شراب کے نشے میں بی آر ایس کی خاتون کونسلرس کی بے عزتی کی ہے ۔ مگر حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی اور ساتھ ہی ریاستی الیکشن کمیشن بھی تماشائی بنی رہی ۔ انہوں نے کہا کہ بلکا سمن کو قریب کی جیل میں رکھنے کے بجائے 200 کلو میٹر دور منتقل کرنا کیا ناانصافی نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں دستور کا قتل ہورہا ہے ۔ راہول گاندھی کو اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ قانون کسی کی جاگیر نہیں ہے مگر پولیس حکومت کے دباؤ اور اشاروں پر کام کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین کو ہراساں و پریشان کررہی ہے ۔ پولیس کا حد سے زیادہ جوش دیکھانا درست نہیں ہے ۔ اگر رویہ نہیں بدلا گیا تو مستقبل میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو عوام کے تحفظ کے لیے پریڈ کرنی چاہئے ۔ نہ کے بی آر ایس قائدین کو دھمکانے کے لیے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس مستقبل میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور حکومت کے اشاروں پر کام کرنے والے عہدیداروں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا ۔۔ 2