ہریش راؤ کے وزیر پی سرینواس ریڈی پر سنگین الزامات

   

وزیر کے بجائے کنسٹرکشن کمپنی کے سربراہ کی حیثیت سے بات کرنے کا دعویٰ
حیدرآباد ۔9۔ اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے ریاستی وزیر مال پی سرینواس ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر دوہرے معیار اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سرینواس ریڈی ایک وزیر کے بجائے کنسٹرکشن کمپنی کے سربراہ کی طرح بات کر رہے ہیں اور اسمبلی میں خود اپنے ساتھی وزراء کی بدعنوانیوں کا اعتراف کرچکے ہیں ۔ ہریش راؤ نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ راگھاوا کنسٹرکشن کمپنی سے متعلق بے ضابطگیوں پر چار سرکاری محکمہ جات نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی ہے اور نوٹس بھی جاری کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اس معاملہ سے اپنی لاتعلقی ظاہر کر رہے ہیں جو ان کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں ریاستی وزیر ’’پنگولوٹی‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ مستقبل میں ان کی مزید بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا جائیگا۔ ہریش راؤ نے سرکاری اراضیات کے معاملہ پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ جب اراضیات پر قبضے ہورہے تھے تو حکومت کی قائم کردہ ایجنسی کیا کر رہی تھی۔ انہوں نے نادر گل کی اراضیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعی سرکاری اراضیات ہیں تو پھر ان کی حفاظت کیلئے باؤنسرس کیوں تعینات کئے گئے۔ ہریش راؤ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ وزیر کے خاندان کے افراد کا بعض خانگی کمپنیوں میں کوئی کردار ہے یا نہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ نادر گل کی اراضیات کو 2016 میں ہی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا اور مطالبہ کیا کہ ان اراضیات سے متعلق ہونے والے بے ضابطگیوں پر حکومت وضاحت پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ وزیر پی سرینواس ریڈی کے خلاف مبینہ غیر قانونی آمدنی کے معاملہ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس مسئلہ کو عوام کے سامنے پیش کرتے رہیں گے۔2/k/m/b