ہر ایک کو سرکاری ملازمت فراہم کرنا ممکن نہیں: کے ٹی آر

,

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ میں اندرون سات سال 2.23 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری ، 15 لاکھ خانگی ، 1.39 لاکھ سرکاری ملازمتوںکی فراہمی

حیدرآباد ۔17 ۔ اگست (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ صرف 7 سال میں ریاست تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں تمام شعبوں میں سرفہرست مقام حاصل کرچکی ہے ۔ ضلع سنگا ریڈی کے ردرارم میں واقع گیتم ڈیمڈ یونیورسٹی میں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر عوام کو کئی شکوک و شبہات تھے۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر نے 7 سال کے دوران نہ صرف ان شکوک کو دور کیا بلکہ اپنی کارکردگی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست کے تمام شعبوں کو سرفہرست کردیا ۔ متحدہ آندھراپردیش کے آخری چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل پر برقی کے مسائل کا دعویٰ کیا تھا لیکن چیف منسٹر نے صرف 6 ماہ میں برقی کے مسائل کو حل کردیا ۔ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری سے کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ دو سیزن کیلئے 62 لاکھ کسانوں کو 15 ہزار کروڑ روپئے کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔ اس اسکیم پر عمل آوری کے بعد تلنگانہ میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔ گزشتہ 7 سال کے دوران تمام چیلنجس کا دلیرانہ طور پر سامنا کیا ہے۔ رعیتو بندھو اسکیم متعارف کرتے وقت بھی شکوک و شبہات تھے لیکن اب ملک کی 11 ریاستیں نام تبدیل کرتے ہوئے اس اسکیم پر عمل کر رہی ہیں۔ ماضی میں زراعت کا انحصار بارش اور بورویلس پر تھا لیکن تلنگانہ کے زرعی شعبہ کو دنیا کے سب سے بڑے لفٹ اریگیشن پراجکٹ کالیشورم سے پانی مل رہا ہے ۔ ملک میں سب سے زیادہ چاول کی کاشت ریاست تلنگانہ میں ہورہی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ہی اس کی نشاندہی کی ہے ۔ تمام شعبوں کو 24 گھنٹے بلا وقفہ معیاری برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ 2014 ء میں تلنگانہ میں 7780 میگاواٹ برقی استعمال ہوتی تھی جو اب بڑھ کر 16 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے ۔ ریاست تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں گھر گھر کو محفوظ پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں علاقہ تلنگانہ میں صرف 23 فیصد جنگلاتی علاقے ہے ۔ اب اس کا تناسب بڑھ کر 28 فیصد ہوگیا ہے ۔ ریاست میں 17 فیصد دلت رہتے ہیں، ان کی ترقی اور بہبود کیلئے متعارف کردہ دلت بندھو اسکیم ملک کیلئے ایک مثالی اسکیم میں تبدیل ہونے کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو سرکاری ملازمت فراہم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ تاحال ریاست میں 2.23 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ۔ 15 لاکھ افراد کو خانگی شعبوں میں1.39 لاکھ افراد کو سرکاری شعبوں میں ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ صرف نئی اسکیمات متعارف نہیں کی جارہی ہے ۔ ان اسکیمات پر کامیابی سے عمل آوری کی جارہی ہے ۔ دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس پر عمل آوری کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ 10 لاکھ روپئے کس طرح خرچ کئے جائیں، کونسا بزنس شروع کیا جائے ، اس کے بارے میں عہدیدار عوام میں شعور بیدار کر رہے ہیں۔ بزنس کو توسیع دینے کا پہلے سے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دلت بندھو اسکیم کا اعلان کرنے کے بعد اقلیتی بندھو اور پی سی بندھو اسکیمات روشناس کرانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، مگر ملک بھر کا جائزہ لینے پر اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دلت سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، انہیں ترقی دینے کیلئے اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ N