ہر بخار کورونا نہیں، اب تو ڈینگو اور ملیریا بھی عام ہے حیدرآباد میں

   

حیدرآباد۔ کورونا وائرس سے پریشان حال شہریوں کیلئے بیماری کی شکل میں ایک نئی آفت دستک دینے والی یا پھر یوں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ڈینگو کی شکل میں آفت دستک دے چکی ہے۔ ہر بخار کورونا نہیں ہوتا اب تو شہر میں ڈینگو اور ملیریا کے واقعات بھی پھیلتے جارہے ہیں۔ کوویڈ 19 کے خوف سے پریشان حال شہریوں کو دواخانے تک رسائی مشکل ہوگئی ہے۔ عام بخار یا پھر موسمی بخار سے ہاسپٹل پہونچنے والے شہریوں کو مشتبہ نظر سے دیکھا جارہا ہے اور کوویڈ 19ٹسٹ کے بعد ہی علاج کی شرائط عائد کی جارہی ہیں۔ ان حالات سے پریشان اور خوف کا شکار شہریوں کے درمیان ڈینگو خاموشی سے منظر عام پر آنے لگا ہے۔ عام طور پر موسم برسات کے آغاز کے بعد ماہ جولائی میں موسمی بخار زور پکڑتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ کورونا کا قہر ہے اسی دوران عام بخار اور ہاسپٹلس کے رویہ سے شہری مزید خوف میں مبتلاء ہورہے ہیں۔ ماہ اپریل ۔ مئی اور جون میں ڈینگو کے اثرات دیکھے گئے اور اب اس کے آہستہ سے پھیلنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ چونکہ بخار موسمی ہے یا عام بخار ہے یا پھر کورونا کوویڈ۔19ہے اس کی شناخت انتہائی مشکل ہوگئی ہے جس کے سبب شہریوں میں خوف بڑھتا جارہا ہے۔ اپنی آبادیوں، رشتہ داروں اور جان پہچان والے شہریوں میں ہر دن کسی نہ کسی کی موت کے واقع ہونے سے عوام میں دہشت پیدا ہوگئی ہے۔ بلدی حکام کو ڈینگو کا اس وقت پتہ چلا جب خانگی ہاسپٹل نے مریض کو شریک دواخانہ کرنے سے انکار کردیا اور قبل از وقت کوویڈ 19 کا ٹسٹ کروانے کو لازمی قرار دیا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے ان علاقوں کا احاطہ کرنا شروع کردیا ہے جن علاقوں میں ڈینگو کے کیسس پائے گئے اور 80 تا100 مکانات کا سروے کرتے ہوئے ان مکانات میں رہنے والے شہریوں میں بخار سے متعلق سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیدار بھی کورونا کے ساتھ ڈینگو کے پھیلاؤ کو خطرناک مانتے ہیں اور اس کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ مجلس بلدیہ کی جانب سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں یہ ٹیمیں مختلف علاقوں کا سروے کریں گی۔ ڈینگو سے متاثرہ علاقوں میں مچھر کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جارہا ہے اور اس درمیان شہریوں میں صحت و صفائی کیلئے بھی شعور بیداری کی جائے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مقامی عوام منتخبہ نمائندوں کو عوامی شعور بیداری کیلئے مہم چلانے پر زور دیا جائے گا اور مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر کو قبل از وقت انجام دینے کی حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا۔