چندی گڑھ: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی پنجاب یونٹ نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بھگونت مان کو کاغذی وزیر اعلیٰ کہنے کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو اپنی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر سیاسی پارٹی بی جے پی کی طرح ڈکٹیٹر نہیں ہے ۔اے اے پی کے ترجمان نیل گرگ نے اپنے بیان میں کہا کہ کاغذی وزیر اعلیٰ کی تقرری کرنا بی جے پی کا انداز ہے ۔ مدھیہ پردیش میں، انہوں نے شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر الیکشن لڑا اور بعد میں وہاں موہن یادو کو وزیر اعلیٰ بنادیا۔ اسی طرح جھارکھنڈ اور راجستھان میں بھی بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے مختلف لوگوں کو پیش کیا، لیکن الیکشن جیتنے کے بعد عوام پر ’کاغذی وزیر اعلی‘مسلط کر دیا گیا۔ گرگ نے کہا کہ دوسری طرف اے اے پی میں ہم جمہوری طریقے سے کام کرتے ہیں۔ 2022 کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے پہلے ہم نے ریاست کے تین کروڑ لوگوں سے پوچھا کہ وہ کسے وزیر اعلیٰ کا امیدوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے لوگوں نے اپنی کالز اور میسجز کے ذریعے اے اے پی کے وزیر اعلیٰ کے چہرے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مان کو تین کروڑ پنجابیوں نے منتخب کیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ایسے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑا اور تاریخی مینڈیٹ ملا ہے ۔ انہیں 92 اراکین اسمبلی کے ووٹوں کے ساتھ ریاستی اسمبلی میں بھیجا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ مان پنجاب کے سب سے ہر دلعزیزوزیر اعلیٰ ہیں۔ وہ ریاست کی ترقی کے لیے وقف ہیں اور لوگ ہر قدم پر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔