’خودانحصار ہندوستان پیاکیج‘ کے پانچویں اور آخری مرحلے میں حکومت کے کئی اہم اعلانات
نئی دہلی، 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ’خودانحصار ہندوستان پیاکیج‘ کے پانچویں اور آخری مرحلے میں حکومت نے آج سبھی شعبہ کو نجی کمپنیوں کے لئے کھولنے ، پبلک انٹرپرائزز کی تعداد کم کرنے ، منریگا کے لئے مختص اور صحت پر سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے اور کمپنی قانون اور دیوالیہ قانونوں میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے ۔وزیرخزانہ سیتارمن اوروزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت نئی پبلک انٹرپرائزز پالیسی لائے گی جس میں سبھی سیکٹروں کو نجی شعبہ کی کمپنیوں کے لئے کھولا جائے گا۔ پبلک انٹرپرائزز چنندہ شعبوں میں ہی کاروبار کر سکیں گے ۔ ان سیکٹروں کو نوٹیفائی کیا جائے گا۔ان سیکٹروں میں بھی کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ چار انٹرپرائزز کمپنیوں کی ہی موجودگی ہوگی۔ ان شعبوں میں بھی نجی کمپنیاں کاروبار کرسکیں گی۔ دیگر شعبوں میں کام کرنے والے انٹرپرائزز کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔ اگر کسی اسٹریٹیجک شعبہ میں چار سے زیادہ پبلک کمپنیاں ہوں گی تو ان کا انضمام یا نجکاری کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ صحت پر سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے گا۔ بنیادی صحت سہولیات ڈھانچہ کو مضبوط کیا جائے گا۔ ہر ضلع میں ہاسپٹل میں انفیکشن سے متاثر مریضوں کے لئے خصوصی بلاک بنائے جائیں گے ۔بلاک سطح پر پبلک ہیلتھ لیباریٹریاں بنائی جائیں گی۔ تحقیق کے لئے ترغیب دی جائے گا۔ نیشنل ڈیجیٹل مشن کا بلیو پرنٹ تیار کیا جائے گا۔سیتارمن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیداہونے والی صورتحال کے پیش نظرغیر مقیم مزدوروں کے اپنے اپنے گھر لوٹنے کی وجہ سے انہیں مقامی سطح پر روزگار مہیا کرانے کے مقصد سے منریگا کے لئے رواں سال میں چالیس ہزار کروڑ روپے کے ایڈیشنل رقم مختص کئے جارہے ہیں۔ بجٹ میں منریگا کے لئے 61 ہزار کروڑ کاالتزام کیا گیا تھا۔ اس طرح اب اسے بڑھا کر 1.01 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 40 ہزار کروڑ روپے کے مزید الاٹمنٹ سے 300 کروڑ دن روزگار پیدا ہوں گے ۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں کاروبار کی آسانی میں اضافہ کرنے کیلئے کمپنی قانون اور دیوالیہ قوانین میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ نجی کمپنیوں کو اب اپنے شیئربراہ راست بیرون ممالک میں لسٹیڈ کرانے کا اختیار دیا جائے گا۔ ساتھ ہی نان۔کنویٹبل ڈیبینچر (این سی ڈی) سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔ اب شیئربازار میں این سی ڈی جاری کرنے سے کمپنی کو لسٹیڈ نہیں مانا جائے گا۔کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کی وجہ سے قرض کی ادائیگی نہ کرنے پر دیوالیہ قانون کے تحت اسے چک نہیں مانا جائے گا۔ دیوالیہ کی حد شروع کرنے کے لئے کم از کم چک حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کیا جائے گا۔ ایک سال تک کوئی نئی دیوالیہ عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آرڈی ننس جاری کیا جائے گا۔چھوٹی تکنیکی اور طریقہ کار کی چک کو مجرمانہ فہرست سے نکالا جائے گا۔ پہلے کمپنی قانون کے تحت اٹھارہ قسم کے جرائم میں صلح کرانے کا حق علاقائی ڈائرکٹروں کو ہوتا تھا اب اس میں چالیس اور جرائم کو شامل کیا جائے گا جہاں دونوں فریق آپسی رضامندی سے معاملے کو حل کرسکیں گے ۔ ساتھ ہی فوجداری عدالتوں اور نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کو الگ الگ کیا جائے گا۔ اس کے لئے بھی آرڈیننس لایا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسکولی تعلیم کے لئے ’سویم پربھا‘ کے تحت ڈی ٹی ایچ پر بارہ نئے چینل شروع کئے جائیں گے ۔
ہر کلاس کے لئے ایک ایک ٹی وی چینل شروع کیا جائے گا۔ ‘سویم پربھا’ کے تحت تین چینلوں کی نشریات کی جارہی ہے ۔ نجلی ٹیلی ویژن خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں ٹاٹا اسکائی اور ائرٹیل سے بھی تعلیمی میٹریلز کی نشریات کی درخواست کی گئی ہے ۔آن لائن تعلیم میں اضافہ کرنے کے لے ‘پی ایم ای ودھا’ کے نام سے ایک پلیٹ فارم کی ابتداء کی جائے گی۔ ملک کے ٹاپ 100 یونیورسٹیوں کو آن لائن تعلیم شروع کرنے کے لئے خودکار اجازت ملے گی۔ آنکھوں اور سماعت سے محروم لوگوں کے لئے خصوصی ای۔کنٹیٹ شروع کئے جائیں گے ۔
حکومت کاروباری آسانی کے اگلے مرحلہ پر کام کررہی ہے
نئی دہلی، 17مئی (سیاست ڈاٹ کام) غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے حکومت ‘کاروباری سگمتا۔از آف دوئنگ بزنس’ کے اگلے مرحلہ پر سنجیدگی سے کام کررہی ہے جس سے وسیع سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور وزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے اتوار کو یہاں وزیراعظم نریندر مودی کے ‘آتم نربھر بھارت ابھیان’ تفصیلات کی پانچویں اور آخری پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کاروباری آسانی کے اگلے مرحلہ کی طرف سنجیدگی سے بڑھ رہی ہے ۔ اس مرحلہ میں ریئل اسٹیٹ کا آسانی سے اندراج، تجارتی تنازعات کو جلد از جلد حل کرنے اور ٹیکس ڈھانچہ کو آسان بنانے پر زور دیا جائے گا۔ ان کے ذریعہ ہندستان کو دنیا میں کاروبار کے لئے سب سے زیادہ پرکشش مقام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار کے موافق ماحول بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ عالمی سرمایہ کار ملک کی کاروبار ماحول رپورٹ۔ڈی بی آر دیکھتے ہیں۔ حکومت کی مسلسل کوششوں سے عالمی بینک کی ڈوئنگ رپورٹ 2019میں ہندستانی کی حالت میں بہتری آئی ہے ۔ 2019میں ہندستان کا مقام 142سے بہتر ہوکر 63ہوگیا ہے ۔ حکومت کی اصلاحات میں اجازت اور منظوری کے عمل کو آسان بنانا، سیلف سرٹیفکیشن اور تیسرے فریق کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا شامل ہے ۔
منریگا کے الاٹمنٹ میں 40 ہزار کروڑ روپے کااضافہ
نئی دہلی، 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر مہاجر مزدوروں کے اپنے اپنے گھر واپس جانے کی وجہ سے انہیں مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے کے مقصد سے منریگا کے لئے اضافی 40 ہزار کروڑ روپے الاٹمنٹ کئے جا رہے ہیں۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور وزیر مملکت برائے مالیات انوراگ سنگھ ٹھاکر نے آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت آج مسلسل پانچویں دن نامہ نگاروں سے بات چیت میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں منریگا کے لئے 61 ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر اب اضافی 40 ہزار کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہاجر مزدوروںاور غریبوں کی فوری طورپر مدد کی جا رہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘جان ہے تو جہان ہے ’ کا نعرہ دیا تھا اور اس کے پیش نظر زندگی کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ غریبوں کو فوری طور پر مالی مدد دی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 40 ہزار کروڑ روپے کے اضافی الاٹمنٹ سے 300 کروڑ افراد کے لئے یومیہ روزگار پیدا ہوں گے ۔ کورونا کی وجہ گھر واپس آ رہے مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے پانی کے تحفظ املاک کے ساتھ ساتھ دیگر کام کرائے جائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ اس سے اعلی سطح پر پیداوار کے ساتھ دیہی معیشت کو رفتار ملے گی۔