واشنگٹن : صدر ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کے ملازمین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور بجٹ پر دوبارہ اپنا اختیار بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر اقدامات کرنے جا رہے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق چہارشنبہ کو ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے اپنی الیکٹرک کار کمپنی کے منافع اور فروخت میں بڑی کمی کے بعد امریکی حکومت میں اپنے کردار کو ’کم کرنے‘ کا اعادہ کیا جس کے بعد کابینہ کے ارکان متحرک ہو گئے ہیں۔دو سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ کابینہ کے وزرا نے بجٹ سے متعلق فیصلوں پر زیادہ سے زیادہ اختیار حاصل کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ایلون مسک کے امریکی حکومت میں اپنے کردار کو کم کرنے کے اعلان کے بعد سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ کابینہ کے اختیارات میں اضافہ ہو جائے گا۔ایجنسیوں کے سربراہان اب حتمی فیصلہ کر سکیں گے کہ کن تجاویز پر عمل درآمد کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ان کا وفاق میں کارکردگی اور اخراجات کی حکمتِ عملی طے کرنے کے حوالے سے کردار مستحکم ہو جائے گا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کابینہ کو زیادہ خود مختاری حاصل ہوگی اور اب اسے ہر فیصلے پر ایلون مسک کے دستخط کی ضرورت نہیں ہوگی۔ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کا بنیادی مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا، بیوروکریسی میں ریڈ ٹیپ کو ختم کرنا اور بیوروکریسی کے اختیارات میں کمی لانا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کو ڈی او جی ای کی قیادت سونپی تھی۔بدھ کو ایلون مسک نے کہا تھا کہ وہ ٹیسلا سے اپنی توجہ ہٹانے کے الزامات کے بعد اب ہفتے میں صرف ایک سے دو دن ہی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کو وقت دے سکیں گے۔