ذکر و اذکار، صدقہ و خیرات کے ذریعہ رمضان کو نورانی بنائیں، بچکنڈہ میں سماعت قرآن برائے خواتین کی تکمیل پر جلسہ، مولانا عبدالعلیم فاروقی کا خطاب
بچکنڈہ ۔ 2 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بچکنڈہ میں یکم رمضان سے 10 رمضان تک مدینہ کلاتھ والوں کے مکان میں سماعت قرآن برائے خواتین کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ آج اختتام ہوا جس میں روزانہ سینکڑوں خواتین نے شرکت کی۔ اہل مکان نے روزانہ خواتین کے لئے کافی انتظامات کئے، واضح رہے کہ گزشتہ 13 برسوں سے ان ہی کے مکان میں سماعت قرآن کا سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کو قرآن سے محبت والفت ہو اس فکر کو محسوس کرتے ہوئے 13 سال قبل مولانا عبدالعلیم فاروقی نے شروعات کی۔ آج ان ہی کی فکر کی وجہ سے ہر منڈل، ہر گاؤں، محلہ واری سطح پر سماعت قرآن برائے خواتین کا سلسلہ جاری ہے جس میں بلا ناغہ 13 سال سے مولانا عبدالعلیم فاروقی ناظم مدرسہ جامعہ خیرالنساء للبنات میں 3 پارے سنا رہے تھے۔ آج تیس پاروں کی مکمل سماعت ہوئی اور اختتام کو پہنچا۔ آج دعا کے موقع پر خواتین کے لئے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے۔ محلہ واری سطح سے سینکڑوں کی تعداد میں خواتین شریک رہیں اور ٹینٹ کا انتظامات کئے۔ اختتامی پروگرام سے مولانا عبدالعلیم فاروقی نے خواتین اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کی نسبت قرآن سے ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کریم کو رمضان میں نازل فرمایا، قرآن دنیا میں سب سے بڑی کتاب ہے قرآن سے ہر ایک کو وابستگی ہونی چاہئے۔ قرآن کا سال میں دو مرتبہ پڑھنا بھی حق ہے۔ ہر گھر میں روزانہ صبح کی شروعات قرآن سے ہو۔ جس گھر میں اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے اس گھر سے جنات اور شیاطین کا خروج ہو جاتا ہے۔ تمام پریشانیوں کا خاتمہ ہو تا ہے۔ آج اس پرفتن ماحول میں ہمارے گھروں کی صبح و شام کی شروعات موبائیل فون سے ہو رہی ہے۔ آخر کہاں سے ہمارے گھروں میں برکت آئے گی۔ مولانا نے خواتین کو پرزور انداز میں کہا کہ صبح فجر کی نماز کے بعد قرآن پڑھنے کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے روزوں کو فرض فرمایا، رمضان میں خوب عبادت، ذکر و اذکار، نوافل، تہجد اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔ صدقہ، خیرات، زکوۃ سے رمضان کی رونقوں کو بحال کریں۔ مولانا نے کہا کہ جس طرح رمضان میں ہم زندگی گذار رہے ہیں اسی طرح غیر رمضان میں بھی زندگی گذاریں۔ کیونکہ موت کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے۔ حضورؐ نے فرمایا عقل مند شخص وہ ہے جو موت آنے سے پہلے پہلے موت کی تیاری کرلے۔ آخر میں کہا کہ اپنے لڑکیوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دلوائیں۔ آج کے پرفتن دور میں لڑکیوں کی دینی تعلیم اشد ضروری ہے۔ بعد پروگرام مولانا عبدالعلیم فاروقی کو تہنیت پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ آخر میں مولانا کی رقت انگیز دعا پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔ اس موقع پر عبدالمجید، شیخ ظہیر، شیخ نصیر، شیخ حسین، رپورٹر روزنامہ سیاست حافظ شیخ محسن نے شرکت کی۔