ہر ہندوستانی کے 3بچے ہونے چاہئیں: موہن بھاگوت

   

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کے روز تین روزہ لیکچر سیریز کے دوران ملک میں آبادی کے توازن اور ڈیموگرافی (شرحِ افزائش) کے مسئلہ پر اپنی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو تین بچے پیدا کرنے چاہئیں تاکہ نہ صرف آبادی متوازن رہے بلکہ والدین اور بچوں کی صحت بھی بہتر رہے۔موہن بھاگوت نے کہاکہ “دنیا کے تمام شاستر کہتے ہیں کہ جن قوموں کی پیدائش کی شرح تین سے کم ہوتی ہے وہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ڈاکٹر حضرات بھی کہتے ہیں کہ اگر شادی میں بہت زیادہ تاخیر نہ کی جائے اور کم از کم تین بچے ہوں تو والدین اور بچوں تینوں کی صحت اچھی رہتی ہے۔ بھارت کے ہر شہری کو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ ان کے گھر میں تین بچے ضرور ہوں۔ اس سے بچے آپس میں ایڈجسٹ کرنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔’’آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں پیدائش کی شرح 2.1 ہے جو کہ ناکافی ہے، اس لئے تین بچوں کی پالیسی اپنانی چاہئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “دو بچوں کا اوسط ناکافی ہے، تین بچے ضروری ہیں، لیکن اس سے زیادہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔’’غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلہ پر موہن بھاگوت نے کہا کہ حکومت اپنی سطح پر کوشش کر رہی ہے لیکن سماج کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “ہر کسی کو اجازت لے کر ہی ملک میں داخل ہونا چاہئے، بغیر اجازت آنا غلط ہے اور اس پر روک لگنی چاہئے۔